سرینگر / /سرکار نے جموں وکشمیر میں دیر ہی سہی سڑکوں کی تجدیدومرمت اور میکڈمائزیشن اور سرکاری عمارتیں بنانے کے تعمیراتی کام کا آغاز کیا ہے لیکن کالی بھیڑوں ( بلیک شیپس) نے ہر جگہ پر اپنا جال بچھا کے رکھ دیا ہے اور وہ ہر اعتبار سے اپنی جھولی بھرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور منظور نظر افراد بھی اس دوڑ میں آباد ہوجاتے ہیں جبکہ رفاہ عامہ کے کام بُری طرح متاثر ہوجاتے ہیں کیونکہ ایسا ناقص اور غیر معیاری مٹرئیل استعمال کیا جاتا ہے کہ چند ماہ بعد ہی وہ عمارتیں گرجاتی ہیں اور سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوتی ہیں ۔ مرکز کی مختلف اسکیموں بشمول ایم جی نریگا ،گرام سبھا ،دین دھیال ،پردھان منتری یوجنا کے تحت سڑکوں کی مرمت اور سرکاری عمارتوں کی تعمیراتی کا کام آجکل شہرودیہات میں شروع کی گئی ہے لیکن اثر رسوخ کی بنیاد پرمنظور نظرافراد کو کمانے کیلئے تعمیراتی پروجیکٹ دئے جاتے ہیں تو وہ رفاہ عامہ کے بجائے اپنے گھر آباد کرنے میں زیادہ توجہ دیتے ہیں اور کاموں کے دوران ایسی بے ضابطگیاں انجام دی جاتی ہیں جب تک نہ جب تک نہ سرکار کی جانب سے ہاتھ میں لی جانے والی سڑکوں ، پلوں ،عمارتوں کی تعمیرکے حوالے متعلقہ محکمہ جات کے افسران اور ٹھیکہ داروں کو جوابد ہ نہ بنایاجائے تب تک ایسے انکشافات کاسامنے آنا بالکل صحیح ہے ۔اس صورتحال میں لوگ از خود اس کی نگرانی کرئینگے اور غیر معیاری میٹرئیل استعمال کرنے کی کاروائیاں روک دینگے تب تک نہ تو بے ضابطگیوںکو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی بہتر سڑکوں ،پختہ عمارتوں ،پلوں اور مضبوط تعمیراتی کاموںکی امید کی جا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے مختص کی جانے والی رقومات عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ہے اور عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان کاموں کے بارے میں استعمال میں لائے جانے والے میٹرئیل کے بارے میں ٹھیکیدار اور متعلقہ محکموں کے ذمہ داروں سے جانکاری حاصل کریں۔ تعمیراتی کاموں کو ٹھیکیداروں اور انجینئروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور عوام کی جانب سے ان کاموں کی تعمیر کے دوران دلچسپی کا مظاہرہ نہ کرنے کی وجہ سے خاص کر وادی کشمیر میں لوگوں کو خستہ حال سڑکوں کے ساتھ ساتھ دیگر بنیادی ضرورتوں کے بارے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔موصولہ اعدادو شمار کے مطابق حکومت کی جانب سے ہر سال اربوں روپیہ تعمیراتی منصوبوں کیلئے مختص رکھے جاتے ہیں اسکولوں ،اسپتالوں ،سڑکوں ،پلوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر کیلئے ٹھیکیداروں کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکمے بھی اس طرح کے کام انجام دے رہے ہیں اور اس دوران اکثر و بیشتر شکایتیں کی جار ہی ہیں کہ ٹھیکیدار اور انجینئر غیر معیاری میٹرئیل استعمال کرکے تعمیراتی کام پر خرچ کی جانے والی رقومات سرکاری خزانے سے نکال کر ان کی بندر بانٹ کیا کرتے ہیں۔اس سلسلے میں سماج کے حساس لوگوں نے بتایا کہ سرکار ی سطح پر اگر تعمیر وترقی کے باب کھولے جاتے ہیں لیکن متعلقہ افسران اور ٹھیکہ دار خزانہ عامرہ کا لوٹ کرنے پر ہرسطح پر تلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ فنڈس رفاہ عامہ کے کاموں کیلئے واگذار کئے جاتے ہیں اور افسران و ٹھیکہ داران فنڈس کے حصہ دار کیوں بنتے ہیں ؟اس حوالے سے عوام کو اٹھ کھڑا ہونا اور اس کی نگرانی کرنی ہے اور ٹھیکہ دار کو سڑکوں مرمت یا میکڈمائزیشن یا سرکاری تعمیرات کھڑاکرنے پر جوابدہ بنانا ہے اور یہ ذمہ داری سرکار کو نہیں بلکہ سیول سوسائٹیز اور سماج کے ذی حس افراد کو نبھانی ہے ۔تاکہ کوئی ٹھیکہ دار غیر معیاری وناقص میٹرئیل استعمال کرنے کی جرات نہ کرسکے ۔










