جموں وکشمیر میں جی ایس ٹی کی تعمیل میں غیر معمولی اضافے کا عکاس

جی ایس ٹی ڈیلروں کی تعداد 5 برسوں میں 1.97 لاکھ تک پہنچ گئی

سرینگر/ / گزشتہ 5 برسوںکے دوران جموں و کشمیر میںاشیاء و خدمات (جی ایس ٹی) کے تحت ڈیلرز کی رجسٹریشن میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابقیوٹی میں جی ایس ٹی رجسٹرڈ ڈیلرز کی تعداد 2018 میں تقریباً 72,000 سے بڑھ کر 2023 میں 1,97,000 ہوگئی ہے۔یہ اس مدت کے دوران جموں و کشمیر میں جی ایس ٹی ڈیلر بیس میں 170% سے زیادہ کی بڑے پیمانے پر توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈیلر رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ملک گیر بالواسطہ ٹیکس کے نظام میں جموں وکشمیر سے کاروبارمیں اضافے کا عکاس ہے۔جموں و کشمیر کے مزید کاروباری اداروں اور تاجروں کی جی ایس ٹی کے دائرے میں آنے کے ساتھجموں وکشمیر کے اندر ٹیکس کی تعمیل میں بہتری کی امید ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 1.25 لاکھ سے زیادہ جی ایس ٹی رجسٹرڈ ڈیلرز کا اضافہ جموں و کشمیر میں صنعتوں اور جی ایس ٹی کے بارے میں تاثر کی مثبت عکاسی کرتا ہے۔ریاستی ٹیکس محکمہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ جی ایس ٹی ڈیلر بیس کو وسیع کرنا جموں اور کشمیر کے لیے ایک صحت مند علامت ہے اور اس سے یوٹی انتظامیہ کے لیے جی ایس ٹی کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔سرکاری دستاویز کے مطابق، 2023-24 (دسمبر 2023 تک) میں گڈز اینڈ سروسز ٹیکس کے تحت محصولات کی وصولی 6018 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جو 2022-23 کی اسی مدت میں اس طرح کی آمدنی کے مقابلے میں 10.60 فیصد اضافے کی مثال ہے۔ موٹر اسپرٹ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی 2023-24 (دسمبر 2023 تک) میں 1240 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جبکہ 2022-23 کی اسی مدت میں 1185 کروڑ روپے کی وصولی تھی۔اسٹامپ کی آمدنی دسمبر 2023 تک بڑھ کر 416 کروڑ روپے ہو گئی ہے جو کہ 2022-23 کے دوران 379 کروڑ روپے تھی، جو 9.7 فیصد کی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایکسائز کلیکشن دسمبر 2023 کے اختتام تک 1758 کروڑ روپے کو چھو گیا جبکہ 2022-23 کے اسی عرصے میں 1392 کروڑ روپے تھا، جس میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔