جموںو کشمیرمیں بے روز گاری کے تیور پھر سے سخت ہوگئے ہے ۔سی آ ئی ایم کی جانب سے جو رپور ٹ منظر عام پرلائی گئی ہے اسکے مطابق ملک میں بے روز گاری کی شرح 7.8فیصداور ہریانہ بے روز گاری پرپہلے پائیدان پرجہاں اسکی شرح 26.8فیص راجھستان دوسرے نمبر پر جہاں اسکی شرح 26.4%اور جموںو کشمیر تیسرے نمبر پربیروز گاری کی شرح 23.1%سکم چوتھے نمبر پر بیروز گاری کی شرح 20.7فیصدبہار میں 17.6%جھار کھنڈ میں 17.3فیصدتا ہم اتراکھنڈ اور چھتیس گڈ ھ ایسی دو ریاستیں ہے جہاں بے روز گاری کی شرح 0.5فیصدہے۔اربن علاقوں میں بے روز گاری کی شرح 8.1فیصداور رولر علاقوں میں یہ شرح 7.5فیصددرج کی گئی ہے ۔جموں وکشمیر کا جہاں تک تعلق ہے ۔دسمبر 2022میں بے روز گاری کی شرح 14.8%تھی جنوری 2023میں یہ شرح 21.08تک پہنچی ۔فروری میں بیروزگاری کی 17.1فیصددرج کی گئی تھی تاہم مارچ 2023میں بیروز گاری کی شرح 23.08فیصدتک جاپہنچی ۔بیروز گاری کے حوالے سے ماہرین کامانناہے کہ لیبرمارکیٹ ختم ہوتاجارہاہے ۔عام انسان ہردن بیکار ہورہاہے سرمایہ دار بازاروں میں سرمایہ لگا نے سے کترا رہے ہے کساد بازاری کابول بالاہوتا جارہاہے مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے کام کم پڑرہے ہے ۔ادھرجموں وکشمیر انتظامیہ نے سی آئی ایم کی رپورٹ کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ ا سمیں حقیقت نہیں جموں وکشمیرمیں بیروز گاری پرقا بو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور اس پر قا بوپانے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے جارہے ہے ۔سرکار کے مطابق جموںو کشمیرمیں بیروزگاری کے خاتمے کے لئے جہاں سرمایہ کاری کی طرف خصوصی توجہ دی جارہی ہے وہی خود روز گار اسکیموں کو زمینی سطح پرسختی کے ساتھ لاگو کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہے اور سرکاری اداروں پرائیویٹ دفتروں اور ملٹپل کمپنیوں کی جانب سے نوجوانوں کوروز گار فراہم کرنے کے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہے ۔جموں وکشمیر انتظامیہ کے مطابق بے روز گاری کے خاتمے کے لئے کوئی بھی دقیقہ فروگزشت نہیں کیاجارہاہے او را ٓنے والے دنوں کے دوران سرکار کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئے۔










