جموں وکشمیر میں بیروزگاری پرقابو پانے میں سرکارکے دعوے وعدے بے بنیاد

سرینگر / /جموں وکشمیر میں بڑھتی ہوئی بیروزگار ی کے پرفکر و تشویش کااظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وزیرنے قالین بافی ،پشمیہ صنعت کے روبہ زوال ہونے پر فکر مندی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ سرکار روز گار کے حوالے سے صرف زبانی جمع خرچ کررہے ہے اور عملی اقدامات اٹھانے کی طرف اپنی توجہ مبزول نہیں کررہی ہے پشمینہ سازی اور قالین بافی کوبین الاقوامی بازار دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ کنبے اب فاقہ کشی کاشکار ہوگئے ہے ۔اے پی آ ئی کو ارسال کئے گئے بیان میں انہوںنے کہا کہ جموںو کشمیر میں بیروزگاری کے خاتمے کے سلسلے میں سرکار زبانی جمع خرچ کے سوا اور کوئی کارروائی عمل میں نہیں لارہے ہے جموںو کشمیرکادرجہ واپس لینے کے بعد مرکزی حکومت اور جموں وکشمیر انتظامیہ نے جموںو کشمیرکے نوجوانوں کوبڑے بڑے خواب دکھائے اور انہیں یقین دلایا کہ 50ہزار کے قریب سرکاری نوکریاں فاسٹ ٹریک بنیادوں پرپرُکی جائیگی تاہم سرکارکے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے اور تین برسوں کے دوران چندسواسامیوں کوپرُکرکے سرکار حاتم طئے کا کارنامہ انجام دینے کادعویٰ کرہی ہے ۔سابق وزیر نے کہا کہ جموںو کشمیرمیں بالعموم اور وادی کشمیرمیں بالخصوص پشمینہ سازی اور قالین بافی لاکھوں کنبوں کی روز ی روٹی کاوسیلہ تھے تاہم موجودہ سرکارنے ان دونوں صنعتوں کوتباہی کے دہانے پرپہنچادیا۔بیان میں کہا گیاہے کہ قالین بافی ے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان وابستہ تھے جبکہ شہرسری نگر کی نصف سے زیادہ آبادی پشمینہ سازی کے ساتھ وابستہ تھی اور اپنا روزگار کمارہے تھے ۔پشمینہ مصنوات کی آڑ میں نقلی مصنوعات فراہم کرکے جموںو کشمیرکی شناخت کوبین الاقوامی سطح پربھی دھچکالگ گیا جبکہ قالین بافی سے وابستہ لوگوں کوخام مال دستیاب نہیں ہے ۔سابق وزیرنے مطالبہ کیاکہ قالین بافی شال بافی اور پشمینہ سازی کوفروغ دینے کے لئے جلد سے جلداقدامات اٹھائے جائے ۔