جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طو رپر پہلگام حملے کی مذمت کی قرار داد منظور کی

جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طو رپر پہلگام حملے کی مذمت کی قرار داد منظور کی

جموں//جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے بائیسرن پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔یہ قرارداد نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری کی جانب سے پیش کی گئی جسے سپیکر عبد الرحیم راتھر نے ایوان میں صوتی ووٹ کے لئے پیش کیا اور بعد میں اسے متفقہ طو رپر منظور کیا گیا۔قرارداد میں کہا گیاکہ یہ ایوان اس گھنائونے، بُزدلانہ اور بہیمانہ فعل کی بلاشبہ مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں معصوم جانوں کا ضیاع ہوا۔ ایسے دہشت گردانہ حملے ’کشمیریت‘، ہمارے آئین میں درج اَقدار اور جموں و کشمیر و ملک میں طویل عرصے سے قائم اِتحاد، امن اور ہم آہنگی پر براہ راست حملہ ہیں۔یہ ایوان متاثرین اور اُن کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے اور ان کے ناقابل تلافی نقصان پر گہرے دُکھ کا اِظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑا ہونے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔یہ ایوان شہید سیّد عادل حسین شاہ کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتا ہے جنہوں نے بہادری سے سیاحوں کو بچاتے ہوئے اَپنی جان قربان کر دی۔ ان کی بہادری،ہمت ، جرأت اور بے لوث قربانی کشمیری روح کی حقیقی عکاسی کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک دیرپا تحریک کا کام کرے گی۔یہ ایوان جموں و کشمیر کے لوگوںکی مثالی یکجہتی، ہمدردی اور عزم کی بھی ستائش کرتا ہے جنہوں نے حملے کے بعد قصبوں اور گائوں میں پُرامن مظاہرے کئے اور سیاحوں کے لئے اَخلاقی اورمادی اِمداد فراہم کی جس سے ریاست کے امن پسند اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبے کا اِظہار ہوا۔یہ ایوان کابینہ کمیٹی برائے سلامتی میٹنگ کے بعد 23 ؍اپریل 2025 ء کو مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سفارتی اَقدامات کی تائید اور توثیق کرتا ہے۔یہ ایوان اس حملے کے متاثرین کے چن چن کر نشانہ بنانے کے پیچھے مذموم عزائم سے آگاہ ہے اور میڈیا سمیت تمام طبقات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے اِنتشار یا اشتعال انگیزی سے بچیں۔ اِس نازک وقت میں اِتحاد قائم رکھنا نہایت ضروری ہے۔یہ ایوان ملک کی تمام ریاستی اور مرکزی حکومتوں سے پُرزور اپیل کرتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے طلبأ اور شہریوں کی حفاظت، عزت اور بہبود کو یقینی بنائیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ہراسانی، اِمتیاز یا خوفزدگی کو روکنے کے لئے ضروری اَقدامات کریں۔یہ ایوان تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی و سماجی رہنماؤں، نوجوان تنظیموں، سول سوسائٹی گروپوں اور میڈیا اِداروں سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ اَمن، اِتحاد اور آئینی اَقدار کے فروغ کے لئے کام کریں اور تشدد یا اِنتشار انگیزی سے گریز کریں۔قرارداد میں مزید کہا گیا،’’جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اپنے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہم اَپنے شہریوں کے لئے اَمن، ترقی اور جامع خوشحالی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے اور اُن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے جو ریاست اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ترقی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘قرارداد پر بات کرتے ہوئے قائد حزبِ اِختلاف سنیل شرما نے پہلگام حملے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر زمین پر جنت ہے جہاں لوگ اَپنی زِندگی کے خوبصورت لمحات گزارنے آتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پوری اِنسانیت اس غیر اِنسانی حرکت سے لرز اُٹھی ہے اور پورا ملک غم اور صدمے میں ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس نازک وقت میں یکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری نے کہا کہ کشمیری اَپنی مہمان نوازی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے دُنیا بھر میں مشہور ہیں اور اِس بُزدِلانہ حملے کی مذمت کے لئے الفاظ کم ہیں۔غلام احمد میر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ہر طبقے کے لوگوں نے اس حملے کی بھرپور مذمت کی ہے اور اِتحاد کا پیغام دیا ہے۔سجاد غنی لون نے کہا کہ ہر علاقے اور طبقے کے لوگوں نے اِس بُزدِلانہ اور سفاکانہ کارروائی کی مذمت کی ہے۔محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
الطاف احمد وانی (کلو) نے پہلگام کو ایک پُرامن علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے 25 برس میں ایسا کوئی واقعہ وہاں پیش نہیں آیا ہے اور لوگوں نے قابل تعریف انداز میں زخمیوں کی مدد کی۔مظفر اِقبال خان نے کہا کہ پوری اِنسانیت اس حملے سے متاثر ہوئی ہے۔وحید الرحمان پرہ نے اسے اِنسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور پہلگام حملے کے متاثرین کو شہید کا درجہ دینے پر زور دیا۔شبیر احمد کُلے نے اِس غیر اِنسانی فعل کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرین کو خراج ِعقیدت پیش کیا۔شیخ خورشید نے متاثرین کی یاد میں پہلگام میں یادگار قائم کرنے کی تجویز دی اور تمام اَرکانِ اسمبلی سے اَپنی تنخواہوں سے اس کے لئے تعاون کرنے کی اپیل کی۔معراج ملک نے کہا کہ ہمیں متحد رہنا چاہیے اور چند اَفراد کو ملک کے سماجی تانے بانے کو بگاڑنے کی اِجازت نہیں دینی چاہیے۔بعد میں سپیکرقانون ساز اسمبلی نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔