جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں پہلگام سیاحوں کی ہلاکتوں پر خصوصی سیشن منعقد

جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں پہلگام سیاحوں کی ہلاکتوں پر خصوصی سیشن منعقد

سپیکر کی دہشت گردی کے بربریت پر شدید مذمت ، اتحاد کی اپیل اور متاثرین کو خراجِ عقیدت

جموں//سپیکرجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی عبد الرحیم راتھر نے پہلگام کے بائیسرن علاقے میں 22؍اپریل کو دہشت گردوں کے ہاتھوں ایک پونی والے سمیت 26 سیاحوں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔اِس المناک واقعہ پر دُکھ او رصدمے کا اِظہار کرنے کے لئے ایک روزہ خصوصی سیشن طلب کیا گیا تھا جس میں سپیکر اور ارکان نے وحشیانہ دہشت گردانہ حملے پر اپنے گہرے دُکھ کا اِظہار کیا جس میں 26 بے گناہ اَفراد اَپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔سپیکر نے خصوصی سیشن کے دوران ایوان سے خطاب کرتے ہوئے اُن 26 معصوم جانوں کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا جو اِس وحشیانہ حملے میں جاں بحق ہوئیں۔ایوان نے ونئے نروال، این رام چندرن، دنیش اگروال، اتل شری کانت مونی، نیرج ادوانی، سمیر گوہا، سشیل نتھیال، سنجے لکشمن، سدیپ نوپانی، بیٹن اڈیکاری، منجوناتھ راؤ، دلیپ دیسالے، پرشانت ستپتی، منیش رنجن، سیّد عادل حسین شاہ، جے ایس چندر مولی، مدھوسودن راؤ، سنتوش جگدائی، کستوبا گنوتا، ہیمنت سوہاس جوشی، شوبھم دیویدی سمی، بھارت بھوشن، سمت پرمار، یتیش پرمار، تگے ہلائینگ اور شیلیش بھائی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ایوان نے اس المناک واقعے میں شہید ہوئے اَفراد کے کی ارواح کے لئے دو منٹ کی خاموشی اِختیار کی۔سپیکر نے گہرے دُکھ اور اَفسوس کا اِظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا، ’’آئیے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیں کہ پوری قوم اس بربریت کی شدید مذمت کرتی ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ بے گناہ سیاحوں کا قتل اِنسانیت اور امن پر حملہ ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’یہ حملہ صرف افراد پر نہیں بلکہ پوری اِنسانیت اور معاشرتی ہم آہنگی پر حملہ ہے۔‘‘
سپیکرموصوف نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سب کو مل کر تشدد کو مسترد کرنا چاہیے اور امن، بھائی چارے اور اتحاد کی اقدار کو فروغ دینا چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ اِس خصوصی سیشن کا مقصد یہ واضح پیغام دینا ہے کہ ’’پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔‘‘سپیکرعبدالرحیم راتھر نے متاثرین کے ساتھ ایوان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور کہا کہ جو سیاح کشمیر کی قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے اور خوبصورت یادیں بنانے آئے تھے، ان کے خواب اس بے معنی تشدد نے چکناچور کر دئیے۔اُنہوںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے طلبأ، شہریوں اور کاروباری اَفرادجو ملک کے دیگر حصوں میں مقیم ہیں، کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کرے۔اُنہوں نے ایوان کے تمام ارکان پر زور دیا کہ وہ مل کر ایک محفوظ اور پُرامن ماحول کی تشکیل کے لئے کام کریں تاکہ تمام شہریوں اور سیاحوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔آخرمیں سپیکر نے اِس بات پر زور دیا کہ امن، رواداری اور ہمدردی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا جائے اور اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔