جموں وکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کا کرمنل جسٹس پر دو روزہ کانفرنس اِختتام پذیر

جموں//جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی فار ڈسٹرکٹ عدلیہ کے ججوں، لیگل ایڈ ڈیفنس کونسلز، جموں صوبے کے تفتیشی افسران اور جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ریسرچ اسسٹنٹس کے زیر اہتمام’’نئے فوجداری قوانین کے خصوصی حوالہ کے ساتھ فوجداری اِنصاف اِنتظامیہ اور سول ، فوجداری قوانین پر تبادلہ خیال‘‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس جانی پور جموں وِنگ میں اِختتام پذیر ہوا۔ جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی نے چیف جسٹس جموں و کشمیر ہائی کورٹ اور لداخ،سرپرست اعلیٰ جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس تاشی ربستن کی سرپرستی میں، چیئرپرسن گورننگ کمیٹی جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی جسٹس سندھو شرما اور ممبران گورننگ کمیٹی جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی کی رہنمائی میں ضلعی عدلیہ کے ججوں کیلئے فوجداری اِنصاف پر دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔پہلے دن پرنسپل ڈسٹرکٹ جج راجوری راجیو گپتا نے سیشن کا اِنعقاد کیا جنہوں نے فوجداری انصاف انتظامیہ کے مختلف اصولوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ مجرم ثابت ہونے تک ملزمین کی بے گناہی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حالیہ ترامیم فوجداری اِنصاف کی اِنتظامیہ میں ہماری روزمرہ کی ذمہ داریوں کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ فوجداری قوانین کے تیزی سے ارتقأ کے ساتھ ان نئے قوانین کے عدالتی عمل پر پڑنے والے عملی اثرات کو سمجھنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ راجیو گپتا نے ان تبدیلیوں سے شرکأ کی رہنمائی کی اہم قانونی اپ ڈیٹس پر روشنی ڈالی اور انہیں مؤثر طریقے سے عملانے کے لئے عملی معلومات پیش کی۔دوسرے دِن سیشن کا اِنعقاد سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ایم ایس پریہار نے کیا جنہوں نے حقیقی زندگی کے معاملوں میں سول اور فوجداری قوانین کو مؤثر طریقے سے عملانے پر تعمیری مکالمے کی سہولیت فراہم کی۔یہ سیشن حالیہ طریقہ کار کی پیش رفتوں کے بارے میں ہماری سمجھ کو تقویت دینے اور ان کے اطلاق میں چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بہت اہم تھا۔جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی کی ڈائریکٹر سونیا گپتا نے دو روزہ کانفرنس کی نظامت کے فرائض اَنجام دئیے اور شکریہ کی تحریک پیش کی۔ تمام سیشن بہت اِستفساری رہے جس میں تمام شُرکأ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اَپنے تجربات ، مشکلات کا اِشتراک کیا اور موضوع کے مختلف پہلوئوں پر بھی گفتگو کی ۔ اُنہوں نے متعدد سوالات بھی اُٹھائے جن کے ریسورس پرسنوں نے تسلی بخش جوابات دئیے۔