جموں وکشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ ،پاکستانی زیر انتظام کشمیر بھارت کو سونپ دیا جائے

12برسوں کے دوران غریبوں کو ترقی کی منزلوں پر گامزن کیا گیا /امیت شاہ

سرینگر//اے پی آئی// جموں وکشمیر کو بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ علیحدگی پسندی کے رجحان اور عسکریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے وزیر اعظم کی سربراہی والی مرکزی حکومت نے جو اقدامات پچھلے 12برسوں کے دوران اٹھائے وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ملک میں امن ،خوشحالی ، ترقی اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے پچھلے ایک دہائی سے جو اقدامات اٹھائے گئے وہ انتہائی قابل دید ہیں۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نامزد امیدواروںکو حق میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ملک میں امن ترقی اور خوشحالی بھارتیہ جنتا پارٹی کا پہلا ایجنڈا ہے اور مرکزی سرکار نے پچھلے 12برسوںکے دوران پسماندہ طبقوں کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے ، انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اجولا اور اُجالا اسکیموں کے تحت غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کو وہ سب کچھ فراہم کیا گیا جو اُن کی ضروریات کا پورا کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ملک میں مزدور طبقہ ہی انقلاب کی نشانی ہوا کرتی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ غریب لوگ جڑے ہوئے ہیں ۔انہیں مرکزی حکومت پر پورا بھروسہ ہے اس لئے کسی بھی مشکل حالات میں وہ وزیر اعظم کے ہاتھ مضبوط کرتے آرہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کو قابل اطمینان قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5اگست 2019کو جموں وکشمیر کو ملک کے ساتھ پوری طرح ضم کردیا گیا اور جموں وکشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے ۔ انہوںنے ائو آئی سی کی جانب سے حال ہی میں جموں وکشمیر کے حوالے سے دئیے گئے بیان کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اندرونی معاملات میں کسی کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ انہوںنے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا مسئلہ باقی ہے اور بھارت کی پارلیمنٹ نے اُس کشمیر کو بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ قرار دیا ہے ، ہم بین الاقوامی برادری سے بھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو اس بات کیلئے مجبور کریں کہ جموں وکشمیر کے اس حصے کو بھارت میں شامل کیا جائے ۔