جموں وکشمیر بنک اے ٹی ایم گارڈ پریشان حال،کوئی پُرسان حال نہیں

سرینگر / /جموںوکشمیر بنک میں گذشتہ کئی برسوں سے تعینات اے ٹی ایم گارڈ پریشانیوں میں مبتلا ہے کیونکہ موجودہ گراں بازاری میں ان کی ماہانہ تنخواہیں نہ ہونے کے برابرہے ۔اس کے بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ ان اے ٹی گارڈز سے 24گھنٹے کام لینے والی کمپنیاں ان سے بے گاری لیتے ہیں اور آج کے دور میں مہنگائی کا بوت اس طرح بوتل سے باہر آیا ہے کہ غریب یا اوسط درجے کے طبقے کا جینا محال بن گیا ہے جو لوگ روزانہ بنیادوں ایک ہزار سے زیادہ کماتا ہے وہ بھی شام کو اپنے اہل وعیال کو مشکل سے بھی روٹی فراہم نہیں کرسکتا ہے کیونکہ جب وہ یومیہ کمائی کو بازار میں لیکر جاتا ہے تواس کا روزانہ خرچہ بھی پورا نہیں ہوسکتا ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس نمائندہ میر فیروز کے ساتھ بات کرتے ہوئے اے ٹی ایم گارڈز نے بتایا کہ وہ پریشان حال ہیں کیونکہ 24گھنٹے ڈیوٹی انجام دینے کے باوجود بھی ان کو معقول تنخواہیں فراہم نہیں کی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اخبارات کے ذریعہ بھی متعلقہ حکام کی نوٹس معاملہ لایا گیا لیکن کئی ہفتے گذرنے کے باجود بھی کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ۔انہوں نے کہا کہ ان کی ماہانہ تنخواہیں اس وقت 7730روپے ہیں جو موجودہ مہنگائی کے دور میں ان کے ساتھ بھونڈا مزاق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آجکل ایک مزدور کھانا پینا سمیت 600سے700روپے یومیہ مزدوری حاصل کرتا ہے جبکہ ان کی تنخواہیں نصف سے بھی کم ہے اور وہ یومیہ 250روپے ہی لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بنک حکام مختلف کمپنیوں کو اے ٹی ایم گارڈ کی بھرتی عمل میں لانے کی ذمہ اریاں تفویض کرتے ہیں ۔لیکن ان کمپنیوں کے پاس اے ٹی ایم گارڈز کیلئے کوئی مثبت پالیسی مرتب نہیں ہے بلکہ وہ اپنی فکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کس طرح سے کمپنیوں کے مالکان کو فائدہ پہنچا سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری نجات حاصل کرنے کیلئے امیدوار وں نے اس نوکری کو تسلیم کیا ہے لیکن یہ نوکری ناانصافی پر مبنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 7ہزار روپے ماہانہ تنخواہوں سے نہ ہی وہ اہل وعیال کو دو وقت کی روٹی فراہم کرسکتے ہیں اور نہ ہی بچوں کی فیس ادائیگی کو یقینی بناسکتے ہیں کیونکہ محدود آمدنی سے یہ ممکن ہی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کی مہاماری کے دوران انہوں نے اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر ڈیوٹی یقینی بنائی اور صارفین کیلئے فوجیوں کی طرح اے ٹی ایمز یا بنکوں میں کھڑا رہے اور صارفین کو پریشانیوں میں مبتلا ہونے کا موقعہ فراہم نہیں کیا لیکن ان کی اس محنت اور ذمہ داری پر انتظامی سطح پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بنک انتظامیہ نے( جی ایکٹیو)کمپنی کو ذمہ داری سونپ دی ہے لیکن ان کے پاس اے ٹی ایم گارڈز کے تئیں کوئی مناسب پالیسی مربوط نہیں ہے اور مذکورہ کمپنی کے ساتھ وابستہ افراد ان کا کوئی بلا نہیں چاہتے ہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے بنک چیرمین آر کے چھبر اورزونل ہیڈ برائے کشمیر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ گراں بازار ی کو مد نظر رکھتے ہوئے اے ٹی ایم گارڈز کی ماہانہ تنخواہیں بڑھائی جائے اور کم ازکم مزدور وں کی یومیہ مزدوری کے تحت 18ہزار سے 21ہزار تک پہنچائی جائے تاکہ وہ بھی اپنے اہل وعیال کو دووقت کی روٹی بہ آسانی فراہم کرسکیں گے اور بچوں کی تعلیم میں ان کیلئے معاون ثابت ہوکر ان کے مستقبل میں رول ادا کرسکیں گے ۔