جموں وکشمیر او رلداخ ہائی کورٹ نے 20؍ دسمبر کو کام کا دِن قرار دیا

جموں وکشمیر او رلداخ ہائی کورٹ کی جانب سے 90 دِن کی ثالثی مہم اِختتام پذیر

سری نگر//جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے تنازعات کے متبادل حل کو فروغ دینے اور زیر اِلتوأ قانونی چارہ جوئی کے بوجھ کو کم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس ارون پلی کی قیادت میں یکم؍ جولائی 2025 ء سے 6 ؍اکتوبر 2025 ء تک کامیابی کے ساتھ ثالثی مہم چلائی۔یہ مہم پورے ہندوستان میں چیف جسٹس آف اِنڈیا اور جسٹس سوریہ کانت، جج سپریم کورٹ آف اِنڈیا، ایگزیکٹیو چیئرمین این اے ایل ایس اے اور چیئرمین ایم سی پی سی کی رہنمائی میں شروع کی گئی تھی جنہوں نے ’’ قوم کے لئے ثالثی کی خصوصی مہم‘‘ کا تصور پیش کیا تھا۔ یہ 90دن کی ثالثی مہم ہندوستان کی تمام تحصیل عدالتوں، ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹس میں زیر اِلتوأ مقدمات کے تصفیے کے لئے شروع کی گئی تھی۔اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 960 مقدمات ثالثی کے لئے لئے گئے۔ اِن میں سے 8 مقدمات فریقین کے باہمی رضامندی سے حل ہوئے، 206 مقدمات غیر حل شدہ رہے جبکہ 646 مقدمات ابھی فریقین کی تصدیق کے منتظر ہیں اور تمام ضروری رسمی کاررِوائیاں مکمل ہونے کے بعد ان کے تصفیے کی توقع ہے۔باقی مقدمات کو مزید قانونی کارروائی کے لئے متعلقہ عدالتوں میں بھیج دیا گیا۔ اس ثالثی مہم میں فریقین، وکلأ، ثالثوں، عدالت کے افسران اور عملے کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی۔چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ اور چیئرمین، ثالثی و مصالحت کمیٹی نے تمام شراکت داروںکے قابلِ قدر تعاون فراہم کرنے پر شکریہ اَدا کیا اور اُمید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ اِنصاف تک رَسائی میں بہتری آئے اور ثالثی کے ذریعے زیر اِلتوأ مقدمات کا جلد از جلد حل ممکن ہو سکے۔