جموں وکشمیرکے مزدوروں کے چہروں پرسرکار کے فیصلے سے خوشی کی لہر دوڑ گئی

سرینگر//جموں وکشمیرکے سینکڑوں مزدوروں میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گئی جب سرکار نے کان کنی اور پھتر کی کھانوں پرعائد پابندی ہٹاکر ان سے قوائدوضوابط کے تحت کام کرنے کی اجازت دے دی ۔جموں وکشمیر میں دس لاکھ کے قریب لوگ پھتر کی کھانوں ندی نالوں میں ریت باجری پھتر نکال کراپنی روزی رورٹی کمارہے ہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق جموںو کشمیرکے میعماروں جنہیں مزدور کانام دیاگیاہے کے چہروں پراس وقت خوشی کی لہردوڑ گئی اوروہ اپنے غموں پریشانی کوبھول گئے جب سرکارنے طویل عرصے کے بعد کان کنی اور پھتر کی کھانوں میں انہیں دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دی ۔سرکار کے اس فیصلے سے دس لاکھ کے قریب مزدوروں کوپھر سے کام کرنے کاموقع ملے گااور ایسے دس لاکھ کے قریب افرادندی نالوں دریاؤں پھترکی کھانوں سے ریت باجری بولڈر پھتر نکال کر اپنی روزی روٹی کماتے ہے سرکار نے جموںو کشمیرمیںپھتر کی کھانوں سے پھتر نکالنے پرپابندی عائد کی تھی جس کے نتیجے میں دس لاکھ کے قریب مزدور کافی عرصے سے اپنی پیٹ کی آگ بجھانے میں بھی مشکلوں کاسامناکررہے تھے ۔سرکارنے 5جولائی کوکان کنی پرعائدپابندی ختم کرنے کااعلان کیاجسکے بعدآج جموںو کشمیرمیں پھترکے کھانوں سے پھر سے مزدورں کی بڑی تعداد نے اپناکام کرنا شروع کردیاہیْ۔