جموں وکشمیرمیں قائم نجی اسکولوں میں فیس کے تعین کامعاملہ

سری نگر//سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ اور نجی اسکولوں کے لئے فیس متعین کرنے والی فیس فیکزیشن اینڈ فنڈ ریگولیٹری کمیٹی کے نام ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے فیس فیکزیشن کمیٹی کو ان نجی اسکولوں میں فیس کا تعین کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے جو کہ بنا ء سرکاری مدد یا تعاون کے چلتے ہیں۔ کشمیرنیوزسروس کوملی تفصیلات مطابق جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اورجسٹس انیرودھا بوس پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے 2 ججوں کی بنچ نے یہ نوٹس جمعرات کومقامی انتظامیہ اور تشکیل دی گئی فیس فیکزیشن کمیٹی کے خلاف جاری کی ۔جموں و کشمیر میں کام کرنے والے 442 نجی اسکولوں کی کمیٹی نے جنوری 2021 کو جاری کردہ اس نوٹس کو چیلنج کرنے کیلئے نیشنل انڈیپنڈنٹ اسکولز الائنز یعنی این آئی ایس کے ذریعے سپریم کورٹ میں عرضی دائری کی تھی۔این آئی ایس اے نے جموں وکشمیرانتظامیہ کی جانب سے نجی اسکولوں کیلئے فیس کاتعین کرنے کی غرض سے تشکیل کردہ کمیٹی کی سے جاری کردہ اُس نوٹس کے خلاف اپنی عرضی عدالت میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے 442 نجی اسکول گزشتہ2 برس کا اپنا اکاونٹ ریکارڈ فیس فکیزیشن کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔پرائیویٹ یانجی اسکولوں کی تنظیم ’ نیشنل انڈیپنڈنٹ اسکولز الائنز‘یعنی این آئی ایس اے کے قومی صدر کلبھوشن شرما نے اپنے وکیل روی پرکاش گپتا کے ذریعے عدالت اعظمی کے سامنے دائر عرضی میں کہا تھا کہ فیس فیکزیشن کمیٹی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ان اسکولوں کی فیس کا تعین کرے جو کہ بغیرکسی سرکاری تعاون یا مدد کے چل رہے ہوں گے۔دائر عرضی کی سماعت کے بعد درخواست گزار این آئی ایس اے کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ عدالت اعظمی کے11 ججوں پر مشتمل بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں سرکار کی جانب سے مقرر کی گئی فیس فیکزیشن کمیٹی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ نجی اسکولوں کا فیس متعین کرے۔سماعت مکمل ہونے کے بعدسپریم کورٹ نے جموں وکشمیرکی انتظامیہ اور فیس اینڈ فنڈ ریگولیٹری کمیٹی کو نوٹس جاری کرکے اُن سے اسبارے میں جواب طلب کیاکہ آیامذکورہ کمیٹی کونجی اسکولوں کیلئے فیس کاتعین کرنے کااختیار ہے کہ نہیں ۔