نہرو یوا کیندر نے نوجوانوں کو نیشنل یوتھ کارپس سکیم کے تحترَضاکاروں کے طور پر کام کرنے کی دعوت دی

جموں وکشمیرمیں تعلیم کے محاذ پر فوج کا23سالہ سفراوراہم رول

مختلف علاقوں میں 45اسکول قائم ،15ہزار سے زیادہ طلاب زیرتعلیم،ایک ہزارسے زیادہ عملہ تعینات

سری نگر//جموںوکشمیرمیں فوج نے ’اقدام خیرسگالی‘کے تحت 1998میں تعلیم کے میدان میں قدم رکھاتھا ،اوراب 23سال کے بعدجموں وکشمیرمیں فوج کے قائم کردہ پبلک وگڈوِل اسکولوں کی تعداد15ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے،جبکہ ان اسکولوں میں تدریسی اورغیرتدریسی عملہ کی تعدادایک ہزار سے زیادہ ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق دستیاب تفصیلات میں درج ہے کہ فوج نے سال1998میں ’سچائی اللہ ہے ،کے نعرے یامقصد‘کے تحت اسکولوں کاقیام عمل میں لانے کاآغاز کیا۔سری نگر کے بی بی کینٹ سے لیکر جموں اورسانبہ سے لیکر اوڑی نیز کٹھوعہ سے لیکر کرناہ تک فوج نے اپنے اسکولوں کادائرہ بڑھادیا ۔سال2019تک جموں وکشمیربشمول لداخ میں فوج کے قائم کردہ پبلک اورگڈوِل اسکولوںکی تعداد45تک پہنچ گئی تھی اورممکن ہے کہ گزشتہ 2برسوں میں مزید کچھ علاقوں میں آرمی نے اسکول قائم کئے ہوں گے ۔دستیاب معلومات کے مطابق فوج نے اپنے قائم کردہ اسکولوںمیں جموں وکشمیراسٹیٹ بورڈآف اسکول ایجوکیشن JKBOSEاورسینٹرل بورڈآف اسکنڈری ایجوکیشنCBSEکانصاب رائج رکھا ہواہے ،جس کامقصد مقامی بچوں بچیوں کیساتھ ساتھ فوجی افسروں وجوانوں کے بچوں بچیوں کواُن کی ضرورت کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم کرانا ہے ۔اس طرح سے فوج نے JKBOSE اورCBSEکیساتھ تال میل رکھاہے ۔جموں وکشمیرمیں قائم سبھی آرمی گڈول اورپبلک اسکولوں کانظم ونسق انڈین آرمی کی25ڈویژن سنبھالتی ہے ۔دفاعی ذرائع نے بتایاکہ جموں وکشمیرمیں آرمی گڈوِل وپبلک اسکولوں کے قیام کابنیادی مقصدیہاں کے بچوں بچیوں کومعیاری تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ آگے چل کروہ زندگی میں اچھے اورکامیاب شہری بن سکیں ۔ذرائع کاکہناتھاکہ گزشتہ 23برسوں کے دوران ہزاروں مقامی اورغیرمقامی طلباء وطالبات نے آرمی گڈوِل اورپبلک اسکولوں میں پرائمری سے لیکر سیکنڈری سطح تک تعلیم حاصل کی ،اوران میں سے ہزاروں طلاب نے بعدازاں اعلیٰ تعلیمی اورپیشہ ورانہ ڈگریاں بھی حاصل کیں اوراب یہ سارے نوجوان کامیاب،خوشحال اورباوقار زندگیاں گزاررہے ہیں ۔