70 ہزار انٹرپرائز درخواستیں موصول، 52,875 کی ڈی پی آر تیار
سرینگر/ یو این ایس // جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی تشویشناک تصویر اس وقت نمایاں ہوئی جب مشن یووا کے تحت کیے گئے بیس لائن سروے کے اعداد و شمار قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے۔ سرکاری جواب کے مطابق یونین ٹیریٹری میں مجموعی طور پر 4,73,936 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو فی الوقت کسی روزگار سے وابستہ نہیں لیکن کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔یو این ایس کے مطابق ایوان کو بتایا گیا کہ بے روزگار افراد میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خاصی بڑی تعداد شامل ہے، جو خطے میں تعلیم یافتہ بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1,26,059 افراد ہائر سیکنڈری تعلیم یافتہ ہیں، 98,466 گریجویٹ جبکہ 70,428 افراد پوسٹ گریجویٹ ڈگری کے حامل ہیں۔سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بے روزگاروں میں 95,914 افراد سیکنڈری سطح تک تعلیم یافتہ ہیں، 44,908 مڈل پاس، 10,994 پرائمری پاس اور 1,745 افراد پرائمری سے کم تعلیم رکھتے ہیں، جبکہ 828 افراد رسمی تعلیم کے ساتھ خواندہ قرار دیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں 24,594 افراد ناخواندہ بھی بے روزگاروں کی فہرست میں شامل ہیں۔یہ اعداد و شمار جنوری 2025 میں محکمہ روزگار اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے کیے گئے ایک جامع سروے کا حصہ ہیں، جو مشن یووا کے تحت انجام دیا گیا۔ اس سروے میں جموں و کشمیر بھر میں 18 سے 60 سال کی عمر کے تقریباً 64.8 لاکھ افراد کا احاطہ کیا گیا تھا۔ڈویژن وار تفصیلات کے مطابق 1.79 لاکھ بے روزگار افراد کا تعلق جموں ڈویژن سے ہے، جبکہ 2.94 لاکھ افراد کشمیر ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں مجموعی بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہے، جو قومی اوسط 3.5 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔۔یو این ایس کے مطابق روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ مشن یووا کے تحت اب تک 1,71,000 سے زائد نوجوانوں کا اندراج کیا جا چکا ہے اور تقریباً 70,000 رسمی انٹرپرائز درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 52,875 درخواست گزاروں کے لیے تفصیلی پراجیکٹ رپورٹس تیار کی گئیں اور ضلعی سطح پر جانچ کے بعد 47,816 درخواستوں کو منظوری دی گئی۔سرکاری جواب کے مطابق 16,741 درخواستوں کو بینکوں کی جانب سے حتمی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ منظور شدہ قرضوں کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے بنتی ہے، جن میں سے 700 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری بھی کی جا چکی ہے۔تاہم تقریباً 9,500 درخواستیں خراب کریڈٹ ہسٹری، پہلے سے موجود قرضوں یا دستاویزی نقائص کی بنیاد پر مسترد کر دی گئیں۔ اسمبلی کو بتایا گیا کہ اس وقت تقریباً 37,000 درخواستیں بینکوں کے پاس زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 15,000 درخواستیں آخری مرحلے میں ہیں اور توقع ہے کہ 31 مارچ 2026 تک ان کی منظوری مکمل ہو جائے گی، جبکہ بقیہ 22,000 درخواستوں کو کریڈٹ کے قابل قرار دے کر آئندہ چند ماہ میں کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ نوجوانوں کے قرض اور آمدنی کے تناسب کے حوالے سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آڈٹ اینڈ انسپیکشنز کی جانب سے اب تک کوئی آزادانہ آڈٹ نہیں کیا گیا ہے۔










