illegal land

جموں میں 1,33,954 کنال مہاجرین اراضی پر ناجائز قبضہ

کشمیر میں 4ہزار کنال سے زائد اراضی بھی زیر قبضہ//حکومت

سرینگر//یو این ایس/حکومت کا کہنا ہے کہ جموں خطے میں 1,33,954 کنال اور 6 مرلہ مہاجرین کی اراضی اس وقت ناجائز قبضے یا عدالتی مقدمات میں الجھی ہوئی ہے، جبکہ کشمیر صوبے میں 3,982 کنال، 1 مرلہ اور 39 مربع فٹ اراضی بھی اسی طرح قبضے یا عدالتی کارروائیوں کے باعث زیر التوا ہے۔یو این ایس کے مطابق حکومت کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کشمیر خطے میں 2,441 کنال، 1.5 مرلہ اور 97 مربع فٹ مہاجرین اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ بازیابی کی کارروائیاں جموں و کشمیر مہاجرین (انتظامِ املاک) ایکٹ، 2006 سمت کے تحت شروع کی گئی ہیں۔ تاہم اراضی کا ایک بڑا حصہ بدستور عدالتی مقدمات میں پھنسا ہوا ہے اور محکمہ ان مقدمات کی جلد یکسوئی کے لیے سرگرمی سے پیروی کر رہا ہے۔نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے کشمیر خطے کے مختلف مقامات پر مہاجرین اراضی کی حد بندی کا عمل جاری ہے، جن میں ٹینگ پورہ بائی پاس، گنگ باغ، بالہامہ، چھترہامہ، مجگنڈ اور پیر باغ شامل ہیں۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے تشکیل دی گئی ریونیو ٹیمیں محکمہ کے اشتراک سے حدود کی نشاندہی، تجاوزات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کی کارروائی عمل میں لا رہی ہیں۔ جموں خطے میں بھی اسی نوعیت کی حد بندی اور بازیابی مہم جاری ہے۔حکومت نے ضلع وار اوقاف اراضی پر ناجائز قبضوں کی تفصیلات بھی پیش کیں، جن کے مطابق مجموعی طور پر 5,907 کنال اور 2 مرلہ اوقاف اراضی پر قبضہ ہے۔جموں خطے میں 4,800 کنال اور 14 مرلہ اوقاف اراضی زیر قبضہ ہے، جن میں ضلع جموں سرفہرست ہے جہاں 1,479 کنال اور 6 مرلہ اراضی پر قبضہ بتایا گیا۔ اس کے بعد سانبہ میں 1,129 کنال اور 15 مرلہ، کٹھوعہ میں 910 کنال اور 8 مرلہ، پونچھ میں 550 کنال اور 9 مرلہ، راجوری میں 479 کنال اور 15 مرلہ، ریاسی میں 126 کنال اور 9 مرلہ، کشتواڑ میں 77 کنال اور 3 مرلہ، اودھم پور میں 31 کنال اور 8 مرلہ، ڈوڈہ میں 9 کنال اور 1 مرلہ جبکہ رام بن میں 7 کنال اراضی پر قبضہ درج ہے۔کشمیر خطے میں 1,106 کنال اور 8 مرلہ اوقاف اراضی ناجائز قبضے میں ہے، جہاں کْولگام میں 250 کنال، بارہمولہ میں 240 کنال اور 6 مرلہ، شوپیاں میں 120 کنال، سری نگر میں 118 کنال اور 14 مرلہ، اننت ناگ میں 114 کنال اور 3 مرلہ، بڈگام میں 54 کنال اور 14 مرلہ، پلوامہ میں 74 کنال اور 1 مرلہ، بانڈی پورہ میں 78 کنال، کپواڑہ میں 26 کنال اور 10 مرلہ جبکہ گاندربل میں 30 کنال اراضی پر قبضہ ہے۔حکومت نے اعادہ کیا کہ مہاجرین اور اوقاف املاک کے تحفظ کے لیے حد بندی، قانونی کارروائی اور فیلڈ سطح پر مربوط اقدامات کے ذریعے بازیابی کی کوششیں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔