جموں میں صحافی کا گھر منہدم ہونے کے بعد ہندو خاندان نے زمین عطیہ کی

سیاسی کشیدگی کے بیچ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی نایاب مثال، عوامی ردعمل مثبت

سرینگر//وی او آئی//جموں میں ایک نایاب مثال سامنے آئی ہے جہاں ایک ہندو خاندان نے اپنا پانچ مرلہ پلاٹ اس مسلم صحافی کو عطیہ کر دیا جس کا مکان ایک روز قبل جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی انہدامی کارروائی میں مسمار کر دیا گیا تھا۔ یہ زمین کلدیپ شرمانے دی، جنہوں نے اپنی بیٹی کے ذریعے ملکیت کے کاغذات متاثرہ صحافی کو حوالے کیے۔ اس لمحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور اسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔شرما نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بی جے پی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ تقسیمی سیاست جموں کے سماجی ڈھانچے کو نہیں توڑ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں ہندو اور مسلمان نسلوں سے بھائیوں کی طرح رہتے آئے ہیں اور کوئی سیاسی جماعت نفرت یا خوف کے ذریعے اس حقیقت کو بدل نہیں سکتی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر بھی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سرکاری محکموں پر اختیار قائم نہیں کر سکتے تو انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر انتظامیہ ایسی انہدامی کارروائیوں کو روکنے میں ناکام ہے تو اقتدار میں رہنے کا کوئی مقصد نہیں۔ یہ عطیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور وزیر اعلیٰ کو ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے الزامات پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ عمر عبداللہ نے الزام لگایا ہے کہ راج بھون کے مقرر کردہ افسران منتخب حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ متاثرہ صحافی نے کہا کہ شرما خاندان کے اس اقدام نے اس کا انسانیت پر یقین بحال کر دیا اور یہ جموں کے عوام کے اصل چہرے کو ظاہر کرتا ہے، جو تقسیم پسند سیاست کے پیدا کردہ خوف سے بالکل مختلف ہے۔ مقامی لوگوں نے اس عمل کو فرقہ وارانہ تقسیم کے بیانیے کا بھرپور جواب قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ زمین پر بھائی چارہ سیاسی پولرائزیشن سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔