جموںو کشمیر کے200کے قریب طلباء یو کرین میں پھنس گئے

جموںو کشمیر کے200کے قریب طلباء یو کرین میں پھنس گئے

طلباء اور والدین کی جانب سے حکومت کو واپسی کے اقدامات کا مطالبہ

سری نگر//روس اور یوکرین کے درمیان رہی فوجی کارروائی کے دوران جموںو کشمیر سے تعلق رکھنے والے200کے قریب طلباء ووہاں پھنس گئے ہیں جو وہاں کے تازہ صورتحال کی وجہ سے شدید پریشانیوں میں مبتلا ہو ئے ہیں جبکہ یہاں ان کے افراد خانہ بھی پریشان ہو ئے ہیں ۔اس دوران طلبا ء اور ان کے والدین نے سرکار سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق جمعرات کی صبح وہاں ہوئے کشیدہ حالات کی کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی جہاں وہاں کشمیری طلبای اضطراب میں مبتلا ہوئے وہی دوسری جانب جموں و کشمیر میں ان طلباء کے افراد خانہ بھی شدید پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ہیں ۔اس دوران شمالی کشمیر کے ہندوارہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم ن جو وہاں ایل بی بی ایس کی ڈگری کر رہا ہے نے کشمیر میں مقیم ایک صحافی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہاں ہر طرف افرا تفری کا ماحول ہے۔انہوں نے کہا جس وقت یہاں کارروائی ہوئی ہے وہ اس وقت نیند میں تھے تاہم اب یہاں ہر سو افراد تفری کا ماحول ہے ہم یہاں سے فوری طور نکلنا چاہتے ہیں‘۔انہوں نے ایک لائیو میں دیگر کچھ ہندوستانیوں کو بھی دکھایا ہے جو باقی ممالک کے لوگوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی قطار میں کھڑے تھے ۔ انہوں نے کہا: ’ہم نے آج صبح بھارتی سفارتخانے کے ساتھ رابطہ کیا اور ہمیں ایک فارم بھرنے کی ہدایت دی گئی‘۔انہوں نے کہا ایم بیسی نے انہیں محفوظ مقامات پر رہنے کی صلاح دی ہے ۔مزکورہ طالب علم نے بتایا ہم یہاں قریب200طالب علم ہیں جہاں ہمیں ایک وٹس ائپ گرپ میں رابطہ ہے اور تمام مشورے ایک ساتھ دے رہے ہیں ۔ ہندوستان کے تامل ناڈو اور پنچاب سے تعلق رکھنے والے دو طالب علموں نے بھی بتایا ہم چاہتے ہیں کہ انہیں فوری طور وطن واپس پہنچایا جا ئے ۔انہوں نے کہا ہوائی اڈہ بند ہونے اور اہم شاہرائوں کو بند کرنے اور رکاوٹ دالنے سے یہاں زیادہ خوف وہراس پھیل گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا حکومت سے صرف یہی مطالبہ ہے کہ ہمیں جتنا جلد ممکن ہوسکے یہاں سے نکالا جائے۔ادھر جموںو کشمیر میں موجود ان طالبان علم کے افراد خانہ بھی ساری صورتحال کی وجہ سے پریشان ہیں انہوں نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ وزارت خارجہ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھا کر یوکرین میں پھنسے ان کے بچوں کی فوری واپسی کو یقینی بنائیں۔دریں اثنا ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموںو کشمیر کے ایل جی منوج سنہا اس ساری صورتحال کے حوالے سے اقدامات کر ر ہیں ۔بین القوامی خبر رسا ادارے کے مطابق اب تک50افراد وہاں مارے گئے ۔