سرینگر//عالمگیر وبائی بیماری کورونا وائرس کی مہاماری یا نامساعد حالات کے بیچ بچوں کی تعلیم کافی حد تک متاثر ہوئی ہے ۔اقتصادی حالات بھی ابتر ہوئے ہیں لیکن اقتصادی بحران کو کم کرنے کیلئے وسائل موجود ہیں اگر سرکاری سطح پر متاثرین کی باز آبادکاری کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تو اقتصادی بہتری عین ممکن ہے جبکہ تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ ہونے کے باجود بھی زیر تعلیم بچوں کی اس وقت کی بھرپائی ممکن نہیں ہے جو گذشتہ تین برسوں سے مسلسل وہ کھوگئے ہیں ۔اگر چہ آن لائن کلاسزسرکاری وغیر سرکاری اسکولوں نے کوڈ کے دوران جاری رکھے اس سے بچوں نے سیلبس کے اہداف کو کسی حدتک پانے کی کوشش کی اور اساتذہ نے بھی دلچسپی کا مظاہرہ کیا لیکن طفل مزاجی فطرت کا تقاضا ہے اور اس کے فطری عوامل نے آن لائن کلاسز کے ساتھ ساتھ اس کو دوسرے خرافات کی طرف دھکیل دیا اور مختلف گیمز کھیلنے یا سیرئیل دیکھنے کی طرف بچے کی ساری توجہ اسی طرف مرکوز ہوئی۔ یہاں تک پب جی ،فری فائر ،مائن کرافٹ ودیگر موبائیل گیمزپر وہ اتنے سنجیدہ ہوئے اب ان کو کھانے پینے کی بھی فکر نہیں رہتی ہے جبکہ پڑھائی میں بھی عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔پب جی کھیلنے کا چسکا بچوں میں اتنا گہرا ہوا ہے کہ ماں کے موبائیل دینے سے انکار پرتو رام باغ کے نوعمر بچے نے خود کشی کرلی جو کسی المیہ سے کم نہیں ہیں ۔والدین بچوں کے حوالے پہلے ہی فکر مند تھے لیکن اس واقعہ کے بعد فکر مندی نے ایک اور رخ اختیار کیا ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق تعلیمی ادارے بند ہونے کے نتیجے میں والدین بالخصوص مائیں خود کشی پر اتر آئی ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں پر قابو نہیں پاسکتی ہیں ۔جبکہ بچوں کیلئے اسکول جانے پر ان کی نگرانی میں 80فیصدی کمی ہوجاتی تھی لیکن اسکول بند ہونے سے سو فیصدی نگرانی کا بوجھ ان پر ہی عائد ہوا ہے اس سے ان کے ٹینشن میں کافی اضافہ ہوا اور اب بچوں کی بیہودہ حرکتوں اور موبائیل کے ساتھ رہنے پر گھریلو تنازعے بھی زیادہ سے زیادہ جنم لیتے ہیں اب بچے ہی نہیں بلکہ والدین خاصکر مائیں ذہنی تنائو کی شکار ہوجاتی ہیں ۔کیونکہ افراد خانہ کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ ان کے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائیں ۔اسی لئے وہ اپنے خون پسینہ کی کمائی اور پوری دھن ودولت ان پر خرچ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں ۔لیکن اسکولوں سے دوری کی وجہ سے یہ بچے والدین کیلئے اب بوجھ بن گئے ہیں اور ان کو ان کا مستقبل تاریک ہی دکھائی دے رہا ہے ۔جموںو کشمیر کا تعلیمی معیار گذشتہ کئی دہائیوں سے معیاری نہیں ہے کیونکہ منتخب نصاب کے تحت کلاسز پاس کرنے میں بچے کو دوسرے کلاس میں سیلبس کے تحت ایسے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ استاد کے سمجھانے کے بعد بھی اس کے دماغ میں پیوست نہیں ہوجاتا ہے اس کی بنیادی وجہ اگلے کلاس میں اس کا کوئی تصورہی نہیں دیا ہوتا ہے ۔جس سے بچے کو دوسرے کلاس میں اڑچنیں پیش آتی ہیں ۔اس حوالے سے لفٹنٹ گورنر منوج سہنا کی صدارت میںبدھ کے روزسیول سیکٹریٹ میں منعقدہ میٹنگ میں واضح کیا گیا کہ جموں وکشمیر میں معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے مختلف سطحوں پراساتذہ کی تعلیمی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ خواندگی کی شرح کو بہتر بنانے کیلئے ہرسطح مساوات اور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا ۔اس طرح انتظامیہ معیار تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے ۔والدین نے کے پی ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ بچوں کا مستقبل اور ان کی زندگیاں اب خطرے میں ہیں ۔کیونکہ بچے خودکشی پر اترنے لگے جبکہ والدین ذہنی تنائو کے شکار ہورہے ہیں ۔اس ضمن میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کو اب ترجیحی بنیادوں پر کھولا جائے تاکہ درس وتدریس کا عمل شروع کیا تاکہ ان کی زندگیوں اور ان کے مستقبل کا تحفظ یقینی بن جائے ۔










