جموں وکشمیر ثقافتی ورثے سے مالا مال ہے:منوج سنہا

لیفٹیننٹ گورنرنے کلچر اور اِس سے منسلک محکموں کے کام کاج کا جائزہ لیا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنرمنو ج سِنہا نے سول سیکرٹریٹ میں محکمہ لائبریری اور ریسرچ، آرکائیوز ،آرکیولوجی اینڈ میوزیم اور جے اینڈ کے اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجزاوراس سے وابستہ محکموں کے کام کاج کا ایک میٹنگ میں جائزہ لیا۔اُنہوں نے کہا ،’’ جموںو کشمیر ثقافتی ورثے سے مالا مال ہے اور اسے دُنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔‘‘اُنہوںنے کہا کہ یہ صوفیوں اور سنتوں کی سرزمین ہے جس میں شکر آچاریہ، نند ریشی ، حبہ خاتون ،لل دید، دیوی روپا بھوانی وغیرہ شامل ہیں اور ان کی تاریخ پیدائش نوجوان پود تک قابل رَسائی بنانے کے لئے اُن کے پیدائشی مقامات پر ثقافتی ورثہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر یوٹی میں زیادہ سیاحوں کی آمد کو راغب کرنے کے لئے زیارت گاہوں ، یاد گاروں اور ورثے مقامات کی ترویج و ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ تاریخی پس منظر میں روایتی اور ثقافتی تقریبات کا اِنعقادکریں۔جموںوکشمیر کے اُن اہم مقامات کی اہمیت سے آنے والے سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی اَفراد بھی ثقافتی ورثے سے تجربہ حاصل کریں گے۔ریاسی میں شری شیو کھوڑی اور بابا بندہ سنگھ جی بہادر زیارت گاہوں کی ترقی کے لئے خصوصی ہدایات دی گئیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ ثقافت کا ایک سالانہ سرگرمی کیلنڈر تیار کریں تاکہ لوگ جان سکیں کہ ان کے لئے پیش کش میں کیا ہے اور اسی کے مطابق منصوبہ بناسکتے ہیں۔اُنہوں نے یو ٹی کے ثقافتی ورثہ اور ثقافت کی نمائش اور جموں و کشمیر سے لوگوں کے رابطے کو مستحکم کرنے کے لئے بہت سے اقدامات تجویز کئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ جے اینڈ کے اکیڈمی آف آرٹ ، کلچر اورلینگویجز قومی اہمیت کے تمام دن عوام کی شرکت کے ساتھ منانے کے لئے پروگرام منعقد کریں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ جے کے اے اے سی ایل سے تھیٹر فیسٹول ، میوزک اینڈ ڈانس پروگراموں ، مشاعرے ، کوی سمیلین ، سمیناروں اور ادبی کانفرنسوں کے ذریعے ادب ، فن اور ثقافت کو فروغ دینے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے۔یہ اِطلاع ملنے پر کہ اکیڈیمی جموںوکشمیر میں تین میگا صوفی فیسٹولوں کا اِنعقاد کر رہی ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کالجوں اور یونیورسٹیوں کو شامل کرنے اور مقامی ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر سر فہرست صوفی فنکاروں کو اِس کے لئے تیار کرنے کی ہدایت دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ لائبریریوں اور ریسرچ کے کام کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ کی عوامی کتب خانوں کو جدید بنانے اور ڈیجیٹل لائبریریوں کی طرح اَپ گریڈ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے محکمہ سے مزید کہا کہ وہ لائبریریوں کے ساتھ دستیاب کتب خانوں کی آن لائن رسائی طلباء کو آن لائن موڈ کے ذریعہ فراہم کریں۔محکمہ کے ایڈمنسٹریٹری سیکرٹری سرمد حفیظ نے جاری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ۔ اُنہوں نے محکمہ کی طرف سے یوٹی کی ثقافت اور ورثے کے فروغ کے لئے کی جانے والی سرگرمیوں کے بارے میں جانکاری دی۔اِس موقعہ پرجانکاری دی گئی کہ اکیڈیمی میں تصوف ، ویدنت ، اِسلامیات ،زبان و ادب ، تاریخ ، ریاضی ، پامسٹری ، سیاست ، معاشیات اور موسیقی سے متعلق زائد از 700 تصنیفات اور پینٹنگوں کا مجموعہ موجود ہے ۔ اکیڈمی کے پاس مشہور پینٹروں کی پینٹنگوں کا 953 نادر ذخیرہ بھی ہے جو جلد ہی عوامی نمائش کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔اکیڈمی سری نگر اور جموں میں محکمہ سیاحت و اطلاعات کے اشتراک سے فلمی میلے منعقد کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ نیشنل سکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) سری نگر میں اپنا ایک مرکز قائم کر رہی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا ، سیکرٹری جے کے اے اے سی ایل اور ڈائریکٹر آرکائیوز ، آرکیولوجی اینڈ میوزیم راہل پانڈے اور دیگر سینئر اَفسران نے ذاتی طور پر اور بذریعہ ورچیول موڈ میٹنگ میں حصہ لیا۔