جموںوکشمیر ایک انوویشن ہب کے طور پر اُبھر رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

جموںوکشمیر ایک انوویشن ہب کے طور پر اُبھر رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

وزیر اعلیٰ کا کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن سے خطاب

سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو کشمیر یونیورسٹی کے پرو چانسلر بھی ہیں، نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک جموں و کشمیر کی معیشت کوایک محدودنظرئیے سے دیکھا گیا لیکن 2026 کا جموں و کشمیر اِختراع اور شراکتی طرزِ حکمرانی کے مرکز کے طور پر اُبھر رہا ہے۔وزیر اعلیٰ کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے جس میں نائب صدرہند سی پی رادھاکرشنن مہمانِ خصوصی تھے۔ اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر و چانسلر منوج سِنہا، وزیر تعلیم سکینہ اِیتو، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، وائس چانسلرنیلوفر خان، یونیورسٹی کونسل کے اراکین، اَساتذہ اور فارغ التحصیل طلبأ موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں قانون ساز اسمبلی میں 2026-27 کا بجٹ پیش کیا جسے انہوں نے ’ مالیاتی کمپاس‘ قرار دیا۔اُنہوں نے کہا کہ بجٹ محض میزانیہ کا بیان نہیں بلکہ جموں و کشمیر کو جدید، ترقی پسند اور معاشی طور پر متحرک خطہ بنانے کا عزم ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ہماری معیشت کو طویل عرصے تک صرف سیاحت یا صرف زراعت تک محدود سمجھا گیا، مگر 2026 کا جموں و کشمیر انوویشن اور شراکتی حکمرانی کا مرکز بن رہا ہے۔‘‘ وزیراعلیٰ نے گزشتہ چند برسوں میں درپیش چیلنجوں بالخصوص 2025 کے صدمات اور اِقتصادی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ استقامت نے جموںوکشمیر کے لوگوں کی پہچان بنائی ہے۔ اُنہوں نے کہا ،’’میری حکومت تین ستونوں میرٹ کریسی، دیرپائی اور ڈیجیٹل خودمختاری پر کام کر رہی ہے۔اُنہوں نے طلبأ پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی کامیابی کے پیچھے والدین کی قربانیوں کو یاد رکھیں۔ اُنہوں نے حدیثِ نبوی ؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’’تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے‘‘ اور کہا کہ آج جب وہ سٹیج پر جا رہے ہیں تو اپنے بزرگوں کے خوابوں اور قربانیوں کے ساتھ جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے اساتذہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے معلومات کے اس دور میں طلبأ کی رہنمائی کی۔وزیر اعلیٰ نے کانووکیشن کو ’’جانشینی‘‘ کا دِن قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے گریجویٹس اُن نسلوں کے وارث ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں علم کی شمع روشن رکھی۔ اُنہوں نے کشمیری صوفی شاعرللیشوری ( لعل دید) کا حوالہ دیتے ہوئے طلبأ کو خود شناسی کے سفر پر گامزن رہنے کی تلقین کی۔اُنہوں نے بتایا کہ اس برس تقریباً 60 فیصد ڈگریاں اور تمغے خواتین نے حاصل کئے جسے اُنہوں نے غربت اور عدم استحکام کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ’’ وومن ویلفیئر‘‘سے وومن لیڈ ڈیولپمنٹ‘‘ کی طرف بڑھ گیا ہے۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ’’ اُمید ‘‘سکیم کے تحت 7 لاکھ خواتین کو,000 80 سیلف ہیلپ گروپوں میں منظم کیا گیا ہے، جس سے’’ لکھپتی دیدیز ‘‘ ابھری ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی قیادت میں مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی سٹارٹ اپس کے لئے بلاسود قرضے بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے خواتین گریجویٹوں کو سول سروسز، بائیوٹیکنالوجی اور عالمی پلیٹ فارموں پر قیادت کے کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔اُنہوں نے سیاحت کے بارے میں کہا کہ اگرچہ یہ جموں و کشمیر کی لائف لائن ہے، مگر اسے ترقی یافتہ بنانا ہوگا۔ صرف گلمرگ اور پہلگام پر انحصار کافی نہیں۔ اُنہوں نے سرحدی سیاحت کے فروغ کے لئے کیرن ، گریز اور ٹیٹوال جیسے علاقوں کی ترقی کا ذِکر کیا۔وزیر اعلیٰ نے دیرپائی پر زور دیتے ہوئے گلمرگ میں مصنوعی برف ٹیکنالوجی اور ماحول دوست رہائش گاہوں کے فروغ کا ذکر کیا تاکہ نازک ماحولیات کا تحفظ کیا جا سکے۔ اُنہوں نے ماحولیاتی سائنس کے طلبأ سے ’’گرین سٹینڈرڈ‘‘متعارف کرنے کی اپیل کی۔اُنہوں نے زراعت کی طرف رجوع کرتے ہوئے ہائی ڈینسٹی انقلاب کے ذریعے تبدیلی پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں تک پھلوں کی برآمد کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور معیاری پودے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے سائنس اور آئی ٹی کے طلبأ کو حقیقی وقت میں کیڑوں کی نشاندہی کرنے والی ایپس اور بلاک چین پر مبنی نظام تیار کرنے کی ترغیب دی تاکہ پانپور کے زعفران جیسی مصنوعات کی عالمی سطح پر تصدیق ممکن ہو۔وزیر اعلیٰ نے ’’زعفران اینڈ سلیکون‘‘ ویژن پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو گرین ڈیٹا سینٹروں کے لئے موزوں مقام کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوان روزگار تلاش کرنے والے نہیں بلکہ روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔اُنہوں نے روزگار کے حوالے سے کہا کہ صنعتی پالیسی کو ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ علم پر مبنی صنعتوں اور تحقیق و ترقی مراکز کو فروغ دیا جا سکے تاکہ نوجوانوں کو پونے یا حیدر آباد جانے کی ضرورت نہ پڑے۔وزیر اعلیٰ نے ذہنی صحت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرہ شدید دباؤ اور صدمات سے گزرا ہے، اس لئے ضلعی سطح پر کونسلنگ سروسز کو وسعت دی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے نفسیات اور سوشل ورک کے طلبأ سے ذہنی صحت پر گفتگو کو عام کرنے کی اپیل کی۔اُنہوں نے کہا کہ بھرتی اصلاحات کے ذریعے ’’سفارش‘‘ کی جگہ’’اہلیت‘‘ کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ میرٹ ہی اصل معیار ہو۔آخر میں وزیراعلیٰ نے مہاتما گاندھی کا قول دہراتے ہوئے کہا،’’وہ تبدیلی خود بنیں جو آپ دُنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘