جموں//وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امورِ صارفین ستیش شرما نے ایوان کو مطلع کیا کہ جموں و کشمیر میں پبلک ڈِسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈِی ایس) مرکزی حکومت کے نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ اور وقتاً فوقتاً ترمیم شدہ جے کے ٹی پی ڈی ایس (کنٹرول) آرڈر کے تحت چلایا جا رہا ہے۔وزیر موصوف نے یہ بات آج ایوان میں رُکن اسمبلی پیارے لال شرما کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت’’ چولہا پرچیز‘‘ راشن کارڈ جاری کرنے کے لئے درست دستاویز نہیں ہے۔وزیر خوراک نے مزید وضاحت کی کہ محکمہ کی جانب سے پی ڈی ایس کے تحت مستحقین کی تصدیق کے لئے ایک باقاعدہ معیار اَپنایا گیا ہے اور ’’ چولہا پرچیز ‘‘ رکھنے والوں (جو کہ ایک ریونیو دستاویز ہے) کو راشن کارڈ جاری کرنے کے لئے زیر غور لانے کی کوئی فعال تجویز نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ 2011 ء کے بعد کوئی نئی مردم شماری نہیں ہوئی کیوں کہ پبلک ڈِسٹری بیوشن سسٹم( پی ڈِی ایس) 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ خوراک ، شہری رسدات و اَمورِ صارفین نومبر 2021 میں جاری کردہ ایس او 389 کے تحت مقررہ معیار کے مطابق فعال طور پر مستفید ہونے والوں اور گھرانوں کو متعلقہ زمروں کے تحت پی ڈی ایس میں شامل کرنے کے لئے تصدیق کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام اہل مستفید کنندگان بشمول حقیقی چولہا پرچی رکھنے والوں کو پی ڈی ایس ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا ہے۔وزیر موصوف نے ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ جب بھی مرکزی حکومت کی جانب سے نئے شناخت شدہ کنبوں کی شمولیت کے پیش نظر نظرِ ثانی شدہ اہداف موصول ہوں گے تو متعلقہ زمروں کے تحت نئے راشن کارڈ جاری کئے جائیں گے۔










