food

جموں وکشمیرفوڈ سیکورٹی قوانین 2021مشتہر

جموں//محکمہ خوراک ، شہری رسدات اور امور صارفین ( ایف سی ایس اینڈ سی اے ) نے جموں و کشمیر میں عوامی تقسیم کاری نظام میں تمام مستحق گھرانوں اور باقی رہ گئے مستفیدین کو خوراک کی یقینی فراہمی کے دائرے میں لانے کیلئے عمل شروع کیا ہے۔اس سلسلے میں ایف سی ایس اینڈ سی اے ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ صوبائی کمشنروں کے ذریعے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں سے درخواست کی ہے کہ وہ مرکزی حکومت اور حکومت جموں و کشمیر اس سلسلے میں اور تفویض کردہ ضلع وار اور زمرہ وار اہداف کے اندر پہلے سے اعلان کردہ معیارات میں رہ گئے اہل افراد /مستحقین کو شامل کرنے کے عمل شروع کریں ۔ ایف سی ایس اینڈ سی اے ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ’’ اس عمل کا مقصد تمام ضرورتمند افراد کو ان کے حق کے مطابق ٹارگٹیڈپبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے ذریعے ‘‘اگر کوئی ضلع کوٹا سے زیادہ ہو یا اضافی کوٹے کی ضرورت ہو تو حکومت کی طرف سے یقینی فوڈ سیکورٹی کے دائرے میں لانا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے ڈیپارٹمنٹ زبیر احمد نے اس مسئلے کے بارے میں افسران کو آگاہ کیا اور محکمہ کے صوبائی سربراہ اور اضلاع کے سربراہوں کے ساتھ میٹنگ میں دیگر اقدامات پر حاصل ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا ۔ ترجمان نے کہا کہ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کو مزید معتبر اور شفاف بنانے کیلئے محکمہ مشن موڈ میں تمام زمروں میں مستفید کی آدھار سیڈنگ پر زور دے رہا ہے تا کہ تمام استفادہ کنند گان کی شناخت ہو سکے اوروہ احسن اور شفاف طور سے فائدہ اٹھا سکے ۔ انہوں نے کہا ’’ کسی بھی مستفیدین کے آدھار کے بغیر ہونے کی صورت میں ڈی سی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایف سی ایس اینڈ سی اے ڈیپارٹمنٹ کے فیلڈ سرگرم عملے کے ساتھ مل کر ایسے استفادہ کنندگان کے اندراج کیلئے خصوصی مہم کا حکم دیں اور مستفید ہونے والوں سے درخواست کی کہ وہ جلد از جلد اپنی آدھار سیڈنگ مکمل کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ڈسٹربیوشن سسٹم کو قابلِ اعتبار بنانے اور این ایف ایس اے کے مؤثر عمل آوری کے لئے ایک ادارہ جاتی فریم ورک تیار کرنے کے لئے اِختراعی اِقدامات کر رہا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر فوڈ سیکورٹی قوانین ۔ 2021ء کے لحاظ سے محکمہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے ۔اِستفادہ کنند گان کی شناخت کے لئے فول پروف طریقہ کار ، گائوں / وارڈ میں ویجی لینس کمیٹیوں کے ساتھ اندرونی شکایات کے اَزالے کے طریقہ کار کا قیام، بلاک اور ضلع سطحوں اور سوشل آڈِٹ کا ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا،’’ یہ اِقدامات نچلی سطح سے تمام شراکت داروں کی شرکت سے عوامی تقسیم کاری نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد کریں گے اور جموںوکشمیر میں نظام کی شفافیت ، جواب دہی اور مناسب کام کو یقینی بنانے میں مدد کریں گے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ محکمہ نے معمر اَفراد اور مزدوروں جن کی انگلیوں پر فنگر پرنٹس کے نشانات موجود نہیں ہے ، معذور اَفراد ، نابالغ ، بستر پرپڑے اَفراد کے معاملے میں تصدیق کی ناکامی سے نمٹنے کے لئے ایک نامزد پالیسی متعارف کی ہے جس کے مطابق اُن کے کنبے کے کسی ایک فرد کو نامزد کر کے وہ اُن کی راشن حاصل کرسکتے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ اِس برس اگست میں اِس پالیسی کے متعارف ہونے کے بعد سے تقریباً 2,700 کنبوں نے مذکورہ سہولیت سے اِستفادہ کیا ہے اور وہ اَپنے نامزد کردہ اَفراد کے ذریعے اَپنے حق کا راشن حاصل کر رہے ہیں۔اُنہوں نے ایسے تمام کنبوں پر زور دیا جو پالیسی کے تحت اہل ہیں اِس سہولیت سے استفادہ کریں تاکہ راشن کا اِن کا جائزحق حاصل کیا جائے اور ڈیلروں یا سیلزمین پر انحصار نہ کیاجائے۔ترجمان نے موسم سرما میں ڈمپنگ کے بارے میں کہا کہ محکمہ نے موسم سرمامیں اُن علاقوں کے لئے راشن کی ڈمپنگ مکمل کر لی ہے جہاں پر برفباری کی وجہ سے سڑکیں اور گزرگاہیں بند رہتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں ان علاقوں کے لئے تقریباً60,000 میٹرک ٹن اَناج ڈمپ کیا گیا ہے جس میں محکمہ کے ایک ہزار سے زیادہ سیل سینٹرکام کرتے ہیں اور اُنہوں نے مزید کہا کہ پی ایم جی کے وائی کے تحت ان علاقوں میں مارچ 2022ء تک تقسیم کے لئے پیشگی مفت راشن بھی ڈمپ کی گئی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ مکینوں کے مطالبے کے پیش نظر ان علاقوں میں تقسیم کے لئے ایک خصوصی نظام نافذ کیا گیا ہے اور مستحقین اگر چاہیں تو دسمبر 2021ء اور اس کے بعد کے تین ماہ کے لئے اَپنا راشن کو ٹا ایک ہی بار میں حاصل کرسکتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں سخت سردی ہوتی ہیں ۔ تاہم تمام تقسیم صرف پی او ایس مشینوں کے ذریعے کی جائے گی تاکہ تقسیم کے عمل کو قابل اعتبار بنایا جا سکے۔