سرینگر// فیس بک اور وٹس اپ جرنلسٹوں نے انتظامیہ اور دیگر محکمہ جات کے افسران کی نیندیں حرام کردی ہے اور آئے روز ضلع افسران اور دیگر سرکاری اداروں کے افسران کو بلیک میل کرنے کی کارروئیاں کررہے ہیں جس کے نتیجے میں سرکاری افسران کافی پریشان ہوگئے ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں سائبر کرائم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے نقلی صحافیوں کی نکیل کسنے کیلئے اقدامات ا ٹھائیں۔ ایسے جعلی صحافیوں میں کئی سرکاری محکموں میں کام کررہے ملازمین بھی ہے جو سرکاری خزانے سے تنخواہیں حاصل کرتے ہیں لیکن ڈیوٹی پر کبھی نہیں جاتے کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ایک طرف کوروناوائرس کے نتیجے میں پوری وادی میں لوگ سخت پریشان ہوچکے ہیں اور سرکاری افسران بشمول انتطامیہ لوگوں تک سہولیات پہنچانے میں سرگرم عمل ہے دوسری طرف فیس بک ، وٹس اپ اور ٹویٹر پیج چلانے والے نقلی جرنلسٹوں نے سرکاری افسران کی ناک میں دھم کرکے رکھ دیا ہے اور آئے روز سرکاری افسران کو دھمکیاں موصول ہورہی ہے اور ان سے رقومات اینٹھنے کے حربے آمائے جارہے۔ کئی افسران نے کہا ہے کہ کچھ لوگ موبائل فون اور دو سو روپے کی مائک ہاتھوں میں ا ٹھاکر سرکاری دفاتر کے چکر کاٹتے رہتے ہیں اور مختلف سرکاری دفاتر کے افسران پر میڈیا کا دبا?بنانے کیلئے ان سے طرح طرح کے بے تکے سوالات کرتے رہتے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ یہاں پر بڑے بڑے اخبارات ،نیوز چینلوں اور نیوز ایجنسیوں سے وابستہ صحافی اپنے روزمرہ کے کام میں اس مصروف رہتے ہیں اور وہ کسی بھی سرکاری دفتر میں نظر نہیں آتے تاہم نقلی صحافی بنکر کچھ لوگ افسران کو پریشان کرتے رہتے ہیں۔ ایسے جعلی صحافیوں میں کئی سرکاری محکموں میں کام کررہے ملازمین بھی ہے جو سرکاری خزانے سے تنخواہیں حاصل کرتے ہیں لیکن ڈیوٹی پر کبھی نہیں جاتے بلکہ صحافت کا دبا? ڈال کر اپنے محکموں کے ملازمین کی آواز کو دبادیتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایسے کئی لوگ سرگرم ہے جو سرکاری نوکر ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو صحافی قراردیکر اپنے افسروں پر دبا? بنائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے پولیس ونگ کی سائبر کرائم یونٹ کے اعلیٰ افسران نے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیکر نقلی جرنلسٹ بننے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں تاکہ اس مہاماری سے نمٹنے میں سرکاری افسران کو کوئی پریشان نہ ہو۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے اصل صحافی اور میڈیا افراد کے دامن پر بھی داغ لگ جاتا ہے اس لئے اس طرح کے آوارہ گردوں کی حمایت نہیں کی جانی چاہئے۔










