fake news

جعلی صحافت کی آڑ میں ڈیجیٹل تخریب کاری

سی آئی کے نے فرار ملزمان کے خلاف اشتہاری کارروائی عمل میں لا دی

سرینگر/ یو این ایس// کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے ریاست مخالف سرگرمیوں اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا کیس میں ملوث تین فرار ملزمان کے خلاف اشتہاری کارروائی انجام دے کر سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خلاف اپنی سخت کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔سی آئی کے کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق، یہ اشتہاری کارروائی این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی جج، سرینگر کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔ کارروائی ضلع سرینگر اور ضلع کپواڑہ کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں ایف آئی آر نمبر 07/2020 کے تحت انجام دی گئی، جو تعزیراتِ ہند کی دفعات 153-اے، 505 اور غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ کی دفعہ 13 کے تحت پولیس اسٹیشن سی آئی کے میں درج ہے۔یو این ایس کے مطابق فرار قرار دیے گئے ملزمان کی شناخت اس طرح کی گئی ہے جن میںمبین احمد شاہ ولد مرحوم علی محمد شاہ، ساکن بچھوارہ، ضلع سرینگر۔،عزیز الحسن عشائی عرف ٹونی عشائی ولد نذیر احمدعشائی، ساکن ڈاک والی کالونی، جواہر نگر، ضلع سرینگر،رفعت وانی دختر غلام محمد وانی، ساکن ترہگام، ضلع کپواڑہ شامل ہیں۔تحقیقات کے مطابق یہ معاملہ نہایت سنگین نوعیت کے جرائم سے متعلق ہے، جو عوامی نظم و نسق، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی سالمیت کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کیے جا رہے ہیں۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ ملزمان نے علیحدگی پسند عناصر کے ایما پر، جو کشمیر کے اندر اور باہر سرگرم ہیں، ایک منظم سازش کے تحت کام کیا۔یو این ایس کے مطابق سی آئی کے کے مطابق، ملزمان نے خود کو صحافی، فری لانسر اور نیوز پورٹلز کے طور پر پیش کیا، جبکہ درحقیقت وہ ایک خفیہ ڈیجیٹل وارفیئر مہم چلا رہے تھے۔ انہوں نے فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرتے ہوئے جھوٹا، گمراہ کن، مبالغہ آمیز، علیحدگی پسند اور سیاق و سباق سے ہٹ کر مواد تیار اور پھیلایا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس منظم مہم کا مقصد سڑکوں پر تشدد کو ہوا دینا، معمول کی شہری زندگی کو متاثر کرنا، عوامی املاک کو نقصان پہنچانا، امن و امان میں خلل ڈالنا اور ملک مخالف جذبات کو فروغ دینا تھا، تاکہ عوام کو حکومتِ ہند کے خلاف مشتعل کیا جا سکے۔سی آئی کے نے واضح کیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کو قوم کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ جو بھی فرد یا گروہ صحافت یا آن لائن سرگرمی کے پردے میں غیر قانونی، علیحدگی پسند یا فرقہ وارانہ کارروائیوں کو انجام دے گا، اس کے خلاف سخت، فوری اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔پولیس نے عدالت کے اشتہاری حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر فرار ملزمان مقررہ مدت کے اندر عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے تو ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں قانون کے مطابق ضبط کر لی جائیں گی۔کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نفرت، غلط معلومات، فرقہ وارانہ کشیدگی یا ملک مخالف پروپیگنڈا پھیلانے والے عناصر مسلسل نگرانی میں ہیں۔قانون ایسے تمام عناصر تک ضرور پہنچے گا، نہ کوئی بچ سکے گا، نہ کوئی استثنا دیا جائے گا، اور نہ ہی ملک کے امن، اتحاد اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت کیا جائے گا۔