جسٹس جاوید اِقبال وانی کی سبکدوشی پرفل کورٹ ریفرنس کا اِنعقاد

سری نگر//جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے سری نگر وِنگ میں چیف جسٹس کے کورٹ روم میں فل کورٹ ریفرنس منعقد کیا گیا تاکہ جج جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس جاوید اِقبال وانی کی سبکدوشی پر الوداعی تقریب منعقد کی جاسکے۔ یہ فل کورٹ ریفرنس ہائی کورٹ کی دیرینہ روایات اور ادارہ جاتی اقدار کے مطابق منعقد کیا گیا۔اِس ریفرنس میں چیف جسٹس ارون پلی، جسٹس سنجیو کمار، جسٹس سندھو شرما، جسٹس راجنیش اوسوال، جسٹس سنجے دھر، جسٹس راہل بھارتی، جسٹس موکشا کھجوریہ کاظمی، جسٹس وسیم صادق نرگل، جسٹس راجیش سیکھری، جسٹس محمد یوسف وانی، جسٹس سنجے پریہار اور جسٹس شہزاد عظیم نے شرکت کی۔اِس کے علاوہ معزز جج صاحبان کی اہلیان بھی موجود تھیں۔تقریب میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سابق ججوں، سول اِنتظامیہ اور پولیس کے سینئر اَفسران جن میں سیکرٹری قانون، اِنصاف و پارلیمانی امور، سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، جموں اور سری نگر میں ڈپٹی سالیسیٹر جنرل آف اِنڈیا، صدرکشمیر ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن سری نگر ، سینئر وکلأ، پرنسپل ڈِسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سری نگر، عدالتی اَفسران، رَجسٹری کے افسران اور جسٹس جاوید اِقبال وانی کے اہل خانہ نے شرکت کی جبکہ جموں وِنگ سے ہائی کورٹ کے افسران و ملازمین اور وکلأ کی بڑی تعداد نے بھی بذریعہ ورچیول تقریب میںحصہ لیا۔ سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محسن قادری نے الوداعیہ خطاب پیش کیاجنہوں نے جسٹس وانی کی لگن، عدالتی بصیرت وذہانت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لئے ان کے عزم کو سراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج کے طور پر جسٹس وانی کی میعاد عدالتی تدبر، انصاف پسندی اور اِنصاف کے گہرے احساس کے ساتھ نمایاں تھی بالخصوص غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے لئے اِنصاف تک رَسائی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ اُنہوں نے جسٹس وانی کو ایک نہایت شائستہ شخصیت قرار دیا اور ان کے مثبت رویے، اِدارہ جاتی خدمات اور بار کے اراکین کے ساتھ باوقار برتاؤ کو اُجاگر کیا۔صدرکشمیر ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن سری نگر ایڈووکیٹ وسیم گل نے اَپنے خطاب میں جسٹس جاوید اِقبال وانی کی شاندار عدالتی خدمات کو سراہتے ہوئے اِنصاف اور آئینی اقدار کے تئیں ان کی وابستگی کو اُجاگر کیا۔چیف جسٹس نے اَپنے خطاب میں جسٹس وانی کی تعلیمی برتری، پیشہ ورانہ دیانت داری اور متوازن عدالتی مزاج کو اُجاگر کیا اور کہا کہ اُنہوں نے بار اور بنچ دونوں پر اَپنی ذِمہ داریاں خلوص کے ساتھ اَنجام دیں۔ اُن کا دور ملازمت نظم و ضبط اور واضح سوچ سے مزین رہا جس نے انہیں قانونی کمیونٹی میں عزت و وقاردِلایا۔ عدالت نے ان کے اہل خانہ کی مسلسل حمایت کو بھی سراہا اور ان کی آئندہ زندگی کے لئے صحت، خوشی اور کامیابی کی نیک خواہشات پیش کیں۔جسٹس جاوید اِقبال وانی نے اپنے خطاب میں چیف جسٹس، ساتھی ججوں، بار ممبران، جوڈیشل اَفسران، رجسٹری کے عملے اور عدالت کے دیگر ملازمین کا شکریہ اَدا کیا اور کہا کہ ان کے تعاون کے بغیر یہ سفر ممکن نہ تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ اس محبت اور خلوص سے بے حد متاثر ہیں جو انہیں ملااور اس بات پر زور دیا کہ انصاف کی مؤثر فراہمی بنچ اور بار کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اُنہوں نے جموں و کشمیر اور لداخ کے وکلأکی قانونی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی سراہا اور اپنے ذاتی عملے کی محنت کو بھی سراہنا کی۔رجسٹرار جنرل جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ ایم کے شرما نے فل کورٹ ریفرنس کی نظامت کے فرائض اَنجام دئیے۔تقریب کے اِختتام پر جسٹس جاوید اقبال وانی کو ان کی شاندار اور مثالی عدالتی خدمات کے اعتراف میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔