سرینگر / /جسمانی طور ناخیز افراد کی بازآبادکاری اور ان کی معاونت کرنے کے دعوے سراب ثابت ہو تے ہیں ۔اس ضمن میں کشمیر پریس سروس کے ساتھ درد پورہ لولاب کپوارہ کے معذور شخص عبدالطیف چوہان نے اپنی بے بسی کو بیان کرتے ہوئے بتا یا کہ وہ اپاہج ہے اور سرکار نے ایسے معذور افراد کی زندگی ان مشکلوں سے نکالنے کے لئے ایک سوشل ویلفیئر اسکیم کے تحت ان کو سائیکل یا سیکوٹی فراہم کرنے کے اعلانات کئے تھے لیکن زمینی سطح پر ان اعلانات کو عملایا نہیں جارہا ہے ۔ان کے بقول صرف منظور نظر افراد کو ہی اس طرح کی امداد کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال 2005میں سائیکل اور سیکوٹی کے لئے اس نے سوشل ویلفیئر آفس کپوارہ میں فارم جمع کیا ہے جبکہ اس نے ان سو لہ برسوں کے دوران سوشل ویلفیئر آفس کپوارہ کا بڑی مشکل سے کئی بارجا کر ان سے یاد دہانی کی ۔ان کے بقول وہاں پر تعینات افسران نے بار ہا بار یقین دہانی کی تاہم عملی طور کوئی مثبت رد عمل سامنے نہیں آیا ۔انہوں نے کہا کہ اس نے اپنی بے بسی رونا سرینگر جاکر سوشل ویلفیئر کے صدر دفتر میں بھی رویا لیکن اس کی فریاد کو خاطر میں لانے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ا نہوں نے کہا کہ وہ اپاہج ہے لیکن اثر رسوخ کی بنیادی پر کئی افراد کو سائیکل فراہم کئے گئے ہیں جبکہ اس نظر انداز کیا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے سوشل ویلفیئر حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ناتوانی اور بے بسی پر ترس کھاکر ان کو سیکوٹی یاسائیکل فراہم کیاجائے تاکہ وہ اپنی زندگی دوسرے انسانوں کی طرح گذار سکے اوروہ کسی محتاج نہ رہے ۔










