بارہمولہ//شہرسر ینگر اوروادی کے دیگرعلاقوں کی طرح ہی بارہمولہ قصبہ کے نوجوانوں ،بچوں اورخواتین میں بھی جسمانی ورزش کارُجحان تقویت پاگیاہے ،جہاں علی الصبح یہاں مردوزن اورنوجوانوں کی مارنگ واک یعنی صبح کے وقت میلوں پیدل چلتے دیکھاجاسکتا ہے ،وہیں بڑی تعدادمیں یہاں کے نوجوان،بچے ،لڑکیاں ،خواتین اوربیمار افراد کوصبح ،دن کے وقت ،سہ پہراورشام کے وقت یہاں مختلف علاقوں میں قائم کئے گئے ’جم سینٹروں ‘میں کثرت اورورزش کرتے دیکھا جاسکتا ہے ۔کشمیرنیوزسروس کے مطابق ماہرین کہتے ہیںکہ جونوجوان جم مراکز پرجاکرجسمانی ورزش کے عادی ہوں ،وہ کبھی کوئی نشہ نہیں کریں گے جبکہ ایسے نوجوانوں اوربچوں کی جسمانی تندرستی کااثر اُن کی دماغی صحت پربھی پڑے گا۔بارہمولہ قصبہ میں اسوقت 10جم سینٹر موجود ہیں ،جہاں ان کے مالکان نے نہ صرف جدیدآلات میسررکھے ہوئے ہیں جبکہ مردوزن ماہر بدن سازوں کی خدمات بھی رکھی گئی ہیں ۔بارہمولہ میں قائم ایک جم سینٹر کے مالک اوربارہمولہ باڈی بلدنگ ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر رفیق جوکہ خودایک Trainerیابدن ساز ہیں ،نے ماہ جولائی میں فون پربتایاتھاکہ نوجوانوں ،بچوں اورخواتین کاجم مراکز پرآکرورزش اورکثرت کرناایک حوصلہ افزاء رُجحان ہے ۔انہوں نے جسمانی کثرت اورورزش کے مثبت پہلوئوں کے بارے میں بتایا کہ جم سینٹروں پرآنے والے بچے اورنوجوان نہ صرف جسمانی طور پرتندرست وتوانا ہونگے بلکہ اسکا سیدھااثر اُن کی دماغی صحت Mental Healthپر بھی پڑتا ہے ۔ڈاکٹررفیق کاکہناتھاکہ صبح کے وقت میلوں پیدل چلنا یعنی مارنگ واک کی عادت یاشام کے وقت گھروںسے نکل کر سیروتفریح کرنا ایک اچھی عادت ہے ۔انہوںنے کہاکہ جب ایک انسان جسمانی اعتبارسے تندرست رہتا ہے تواُس کادماغ بھی اُسی قدر تندرست اورچوکس بن جاتا ہے ۔ڈاکٹر رفیق کامزیدکہناتھاکہ جم مراکز آنے والے نوجوان اوربچے نظم وضبط کے پابندبن جاتے ہیں،اُنھیں علی الصبح جم سینٹر پہنچنا ہو،تووہ شام کو جلدی سوجانے کی کوشش کرتے اسکے عادی ہوجاتے ہیں ،اوریوں اُن کے دماغ کوسکون اورآرام ملتا ہے ۔انہوں نے بتایاکہ جسمانی کثرت اورورزش کرنے سے ایک انسان کاخون بدن کے ہرحصے میں جاتا ہے اوراسے اُسکی صحت اچھی رہتی ہے ۔ماہربدن ساز ڈاکٹر رفیق نے مزیدکہاکہ جم سینٹر آنے والے نوجوان اوربچے کھانے پینے کے معاملات میں بھی ایک شیڈول کے پابندرہتے ہیں اوروہ کوئی بھی غیرضروری چیز نہیں کھاتے ہیں ،کیونکہ اُنھیں تربیت کے دوران یہ بتایا جاتا ہے کہ اُنھیں کس قسم کی غذائیات کااستعمال کرنا چاہئے ،اُنھیں کب اورکتنے وقت تک سونا چاہئے ۔ایک سوال کے جواب میںڈاکٹر رفیق نے بتایاتھاکہ باڈی بلڈنگ بشمول ورزش ایک اچھی عادت ہے ۔انہوں نے اسکی وضاحت کرتے ہوئے بتایاکہ ایک مکان کی بنیاد جتنی مضبوط ہوگی ،اُسی قدر مکان کوہم کئی منزلہ بناتے ہیں ،اورایسے مکانات محفوظ تصور کئے جاتے ہیں ،اسی طرح جب بچوں کوبچپن سے اورنوجوانوںکوجوانی کے وقت مقوی غذائیات کھانے اورورزش کرنے کی عادت ہوتی ہے توایسے بچوں اورنوجوانوںکاجسم بھی ایک پائیدار مکان کی طرح مضبوط بن جاتا ہے اورپھرایسے افراد کسی بھی جسمانی چیلنج ،ذہنی پریشانی یا کسی بھی طرح کی بیماری سے مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ایک اورجم سینٹرمیں بطور بدن ساز کے بطورتعینات نوجوان شفاعت حسین نے بتایاکہ اب بچوں ونوجوانوں میں جم سینٹر جانے کارُجحان کافی فروغ پاچکاہے ۔انہوںنے بتایاکہ جب کوئی چھوٹا بچہ جم سینٹر آتا ہے تو سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کوئی وزن اُٹھاسکتا ہے کہ نہیں ،اسکی جسمانی صلاحیت کیسی ہے ،اس میں کتنی لگن ہے ۔شفاعت حسین نے بتایاکہ کوئی بیمار شخص جم سینٹر آجائے توہم اُسکے ڈاکٹری نسخے کودیکھتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ اس شخص کوکیا اورکتنی ورزش یاکثرت کرانے کی ضرورت ہے ۔شفاعت کاایک سوال کے جواب میں کہناتھاکہ کئی طرح کے نوجوان اورلوگ جم مراکز آتے ہیں ،کسی کواپنا جسم اوربدن بہتر بنانے کاشوق یہاں لاتاہے ،کوئی ڈاکٹرکے مشورے جم سینٹر آتا ہے ،کوئی نوجوان اپنے کسی ساتھی یادوست کویہاںآتا دیکھ آجاتا ہے ۔تاہم انہوںنے کہاکہ کسی بھی بہانے جم مرکز آنا ہرانسان کی صحت کیلئے سودمند ہی ہے ۔باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن بارہمولہ کے صدر کی حیثیت سے ڈاکٹر رفیق کاکہناتھاکہ قصبہ بارہمولہ میں اولڈٹائون سے لیکر کانسپورہ تک جودس جم سینٹر چل رہے ہیں ،وہاں مردوزن الگ الگ شفٹوں میں ورزش یاکثرت کیلئے آتے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ سبھی مراکز میں ورزش اورکثرت کیلئے درکار جدید آلات میسر ہیں اورمردوں کومردبدن ساز یعنیTrainerاورخواتین ولڑکیوں کیلئے خواتین بدن ساز رکھے گئے ہیں ۔










