مستقبل کی جنگ میں ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اہم ہوں گے: سی ڈی ایس جنرل انیل چوہان
سرینگر// یو این ایس//چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے زور دے کر کہا ہے کہ بھارت کی مسلح افواج کو مستقبل کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے جنگی منظرنامے کے مطابق ڈھالنے کے لیے انہیں ایک مربوط، لچکدار اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ فورس میں تبدیل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، جو بیک وقت مختلف محاذوں پر مؤثر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔یو این ایس کے مطابق’رن سمواد 2026‘ سیمینار کے اختتامی خطاب میں انہوں نے کہا کہ جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اب یہ روایتی میدانوں اور وقت کی حدود سے آگے نکل چکی ہے۔ ان کے مطابق ملٹی ڈومین آپریشنز اب محض ایک نظری اصطلاح نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن چکے ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیٹکس اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے باعث ممکن ہوئے ہیں۔جنرل چوہان نے کہا کہ ماضی میں جنگ زمینی، بحری اور فضائی حدود تک محدود سمجھی جاتی تھی، تاہم اب اس میں سائبر اسپیس، برقی مقناطیسی میدان، معلوماتی جنگ، وقت اور حتیٰ کہ انسانی ذہن بھی شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس نئے رجحان کو ‘‘ملٹی ڈائمینشنل وارفیئر’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی جنگیں کئی سطحوں پر ایک ساتھ لڑی جائیں گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیاروں کی طاقت کافی نہیں بلکہ معلومات پر کنٹرول، تیز رفتار فیصلہ سازی اور دشمن کے نظام کو مفلوج کرنا زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق اب جنگ کا مقصد صرف تباہی نہیں بلکہ مخالف کو اس حد تک غیر مؤثر بنانا ہے کہ وہ ردعمل دینے کے قابل نہ رہے۔سی ڈی ایس نے انٹیلی جنس، سرویلنس اور ریکاناسنس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں معلومات کی کمی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی بروقت اور درست تشریح سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو فریق معلومات کو زیادہ تیزی اور درستگی سے سمجھ کر فیصلہ کرے گا، وہی برتری حاصل کرے گا۔انہوں نے معروف عسکری تصور ’ائو ائو ڈی اے‘لوپ’’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جو فریق اس سائیکل—یعنی مشاہدہ، تجزیہ، فیصلہ اور عمل—کو زیادہ تیزی سے مکمل کرے گا وہ کامیاب ہوگا، تاہم مصنوعی ذہانت کی پیش گوئی کرنے والی صلاحیتوں نے اس تصور کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب افواج کو اس قابل ہونا ہوگا کہ وہ دشمن کی چالوں کا اندازہ پہلے سے لگا سکیں۔جنرل چوہان نے کہا کہ جدید جنگ میں کائنیٹک (روایتی ہتھیاروں) اور نان کائنیٹک (سائبر حملے، معلوماتی جنگ) ذرائع کا امتزاج بڑھ رہا ہے، جبکہ انسان بردار اور بغیر انسان کے نظام (جیسے ڈرونز) بھی ایک ساتھ استعمال ہو رہے ہیں۔ اس ہم آہنگی کے ذریعے دشمن کو مختلف سطحوں پر بیک وقت دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے ادارہ جاتی ڈھانچے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر ملٹی ڈومین آپریشنز کے لیے مضبوط نیٹ ورک، واضح معیاری عملی طریقہ کار اور تینوں افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی ضروری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں بعض خلا موجود ہیں جنہیں فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ حاضر سروس افسران، خاص طور پر درمیانی اور نچلے درجے کے افسران کو اپنی رائے پیش کرنے کا موقع دیا گیا، کیونکہ یہی افسران عملی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔سی ڈی ایس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید جنگ کو صرف عسکری تناظر میں نہیں بلکہ سیاسی تناظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ملک بغیر گولی چلائے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر لے تو یہ بھی ایک نئی قسم کی جنگی حقیقت ہے، جس میں معلوماتی اثر و رسوخ اور نفسیاتی حربے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سیکورٹی چیلنجز سرحدوں کے پابند نہیں رہے، اس لیے ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون، معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ حکمت عملی نہایت اہم ہو چکی ہے۔جنرل چوہان نے اعلان کیا کہ ’رن سمواد 2027‘ کا انعقاد بھارتی بحریہ کی میزبانی میں ہوگا، جس میں شفاف اور وسیع جنگی میدان میں شدید نوعیت کی کارروائیوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، اور اس میں نوجوان اور درمیانی سطح کے افسران کی مزید شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ماہرین کے مطابق سی ڈی ایس کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت اپنی دفاعی حکمت عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سمت میں سنجیدہ ہے، جہاں ٹیکنالوجی، معلومات اور ہم آہنگی مستقبل کی جنگوں کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔










