جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے کھانے پینے کی اشیاء کے نرخ بازار کمیٹیوں کواختیار دینے کے بعد گاہک جاگوگاہک اورصارفین کے حقوق اُجاگر کرنے کادن بے معنیٰ ہو کررہ گیاہے ۔جاگوگاہک جاگو کا نعرہ اب وادی کشمیر میں بے معنیٰ ہوکر رہ گیاہے جسکے نتیجے میں ناجائز منافہ خور عام لوگوں کو لوڑنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔ 95فیصد سبزیوں کی پیداوار ان دنوں وادی کشمیرکے مختلف علاقوں میں ہورہی ہے پھربھی سبزیاں عوام کی قوت خرید سے باہر، جبکہ پرچون وکانداروں کی من مانیاں حد سے زیادہ تجاو زکرگئی ہے حالانکہ ہول سیل نرخ میں کوئی اضافہ نہیںہوا ہے۔2022تک وادی کشمیر میں جاگوگاہک جاگوکانعرہ اہمیت کاحامل تھا اور عام انسا ن انتظامیہ کے پاس شکایت کرنے کاحقدار تھا ۔2022کے وسطہ میں امورصارفین عوامی تقسیم کاری کے محکمہ نے کھانے پینے کے اشیاء کے نرخوں کی ذمہ داری بازا رکمیٹی کوسونپ دی کہ اب وہی گوشت ،انڈو چائے ہلدی تیل اوردوسری اشیاء کانرخ مقررکریگی اورعوام ان کے نرخوں کے مطابق قیمت اد اکرینگے ۔انتظامیہ کی جا نب سے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کومقرر نہ کرنا ناجائزمنافہ خوروں کے لئے عیددیوالی سے کم نہیں تھا۔وادی کشمیر میں کوئی بھی شئے اب عام انسان کے قوت خرید میں نہیں ہے ۔کھانے پینے کی اشیاء ہو یاسبزیاں ملبوسات ہویاتعمیراتی سامان مہنگائی اس قد رکردی گئی ہے کہ انسان قیمتیں سن کردنگ رہ جاتاہے لوٹ کھسوٹ کابازار اس قد رگرم کردیاگیاہے کہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے سمیت متوسطہ طبقہ ٓاہیں بھرنے سے کچھ نہیں کرسکتا ۔عوامی حلقوں کے مطابق جاگو گاہک جاگو کے نعرہ کے تحت وہ اپنی شکایت سرکار کے پاس کرسکتے تھے جب سرکار نے بھی ہاتھ کھڑے کرلئے توشکایت کس سے کرے میعاری غیرمیعاری اشیاء بازاروں میں فروخت ہورہی ہے جانچ کے بھی اقدامات نہیںا ٹھائے جاتے ہے ۔قیمتوں کواعتدال پر رکھنا اب سرکا رکی ذمہ داری نہیں رہی ۔عام انسان کو سرکار نے ناجائز منافہ خوروں کے رحم وکرم پرچھوڑ دیاہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق95%سبزیوں کی پیداوار ان دونوں وادی کشمیرکے اطراف واکناف میں ہورہی ہے پھر بھی انہیں شہروں قصبوں میں بزیوں کی جو قیمتیں مقر رکی گئی ہے وہ قوت خرید سے باہرہے اسی طرح تیل، چایئے، ہلدی، مرچ او رضرر ت زندگی کے دوسری اشیاء عام انسان کے قوت خرید سے باہر ہورہی ہے۔ عوامی حلقوں کایہ مانناہے کہ سرکار اگر اس با ت کی طرف سنجیدگی کامظاہراہ نہیں کریگی ا ورعام نسان کوراحت پہنچانے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گی تو پھر اس کی ضرور ت کیاہے ۔










