جاپانی شہری کا بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، 21کلوگرام سونا

جاپانی شہری کا بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، 21کلوگرام سونا

چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے جمعرات 19 فروری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اوساکا شہر جاپان کا انتہائی اہم تجارتی مرکز ہے لیکن اس شہر کے آبی نظام کو، جو اب کافی پرانا ہو چکا ہے، مرمت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
اوساکا کے واٹر سسٹم کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کافی زیادہ رقوم کی ضرورت ہے اور اس عمل میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے ایک مقامی باشندے نے اپنا تقریبا 21 کلوگرام سونا بطور عطیہ بلدیاتی حکومت کو دے دیا۔
اس شہر کے میئر ہیڈے یوکی یوکویاما نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ عطیہ کردہ 21 کلوگرام سونے کی مالیت تقریبا 3.6 ملین ڈالر بنتی ہے۔
میئر یوکویاما کے مطابق سونے کی شکل میں یہ عطیہ شہر کی مقامی حکومت کو گزشتہ برس نومبر میں دیا گیا، لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ اس سے صرف ایک ماہ قبل اسی باشندے نے اسی شہر کے آبی ترسیل کے محکمے کو 3,300 امریکی ڈالر کے برابر نقد رقم بھی بطور عطیہ منتقل کر دی تھی۔
عطیہ کنندہ کی گمنام رہنے کی خواہش
میئر یوکویاما نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’اپنی مالیت میں یہ بہت بڑا عطیہ ہے۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اس عمل پر اپنی طرف سے عطیہ کنندہ کا کافی حد تک شکریہ ادا کر سکوں۔‘‘
شہر کے میئر نے مزید کہا، ’’میرے لیے یہ اچھی خبر دھچکے کی حد تک حیران کن تھی۔‘‘
اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ میئر نے اپنی گفتگو میں متعلقہ شہری کی شناخت ظاہر نہ کی۔ انہوں نے کہا، ’’ڈونر نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اس کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔‘‘
جاپانی میڈیا کے مطابق 2.8ملین کی آبادی والے شہر اوساکا میں واٹر سپلائی کے لیے پائپ نیٹ ورک کو تبدیل کرنے کا جو منصوبہ مقامی بلدیہ نے شروع کیا تھا، اس پر عمل درآمد میں اس لیے مشکلات پیش آ رہی تھیں کہ اس پورے منصوبے پر اٹھنے والی لاگت مجوزہ اخراجات سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔ (ڈی ڈبلیو)