جاوید ڈار نے بینکٹ ہال میں ایچ پی اینڈ ایم بائیر ۔سیلرمیٹ کا اِفتتاح کیا

جاوید ڈار نے بینکٹ ہال میں ایچ پی اینڈ ایم بائیر ۔سیلرمیٹ کا اِفتتاح کیا

محکمہ باغبانی کے تصور کر دہ اہداف کو حاصل کرنے کیلئے حکومتی ویژن کی تکمیل پر زور دیا

سری نگر// وزیر برائے زراعت، دیہی ترقی اور پنچایتی راج جاوید احمد ڈار نے بینکٹ ہال میں محکمہ ہارٹی کلچر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ (ایچ پی اینڈ ایم) کی جانب سے منعقدہ پہلی بائیر ۔سیلر میٹ ۔سیلر میٹ کا اِفتتاح کیا۔ اس میٹ کا مقصد کسانوں کو مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔اُنہوںنے مختلف ایف پی اوز اور کاروباری اِداروں کے سٹالوںکا دورہ کر کے شُر کأ سے بات چیت کی ۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے ڈائریکٹرہارٹی کلچر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ (ایچ پی اینڈ ایم) کو ہدایت دی کہ وہ کاروباریوں کی رہنمائی کریں اور اُنہیں سرکاری سکیموں اور اَقدامات کی مکمل معلومات فراہم کریں۔وزیر موصوف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ کی جانب سے بائیر۔ سیلر میٹ منعقد کرنے کو سراہاجو باغبانی شعبے کے فروغ اور ترقی کے لئے اہم قدم ہے۔ اُنہوں نے محکمہ باغبانی کے حکومتی اہداف کی تکمیل پر زور دیا۔اُنہوںنے کاشت کاروں پر زور دیا کہ وہ جدید پیداواری تکنیک اَپنائیں تاکہ پیداوار میں اِضافہ ہو سکے۔ اُنہوں نے حکومتی سکیموں سے بھرپور اِستفادہ کرنے کی ترغیب دی۔جاوید احمد ڈارنے فصلوں کی تنوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مقامی اقسام کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے جعلی کھادوں اور کیمیائی اَدویات کی درآمد کے مسئلے پر جن سے فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے یقین دِلایا کہ ایک الگ اَنفورسمنٹ وِنگ قائم کی جائے گی جو مارکیٹ میں غیر معیاری کھادوں اور کیڑے مار اَدویات کی فروخت پر کڑی نگرانی رکھے گی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ نظام میں بہتری کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں گے اور مزید لیبارٹریز قائم کی جائیں گی تاکہ درآمد شدہ باغبانی مواد کے معیار کی جانچ کی جا سکے۔اُنہوں نے تمام شراکت داروںپر زور دیا کہ وہ محکمہ کے ساتھ رجسٹرڈ ایجنسیوں کی معلومات سے باخبر رہیں اور خود کواِی ۔این اے ایم سے بھی رجسٹر کریں۔ دریں اثنا،جاوید احمد ڈار نے محکمے کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈی کا ذکر کیا جن میں کولڈ سٹورز، ریفر وینز، گریڈنگ لائنز اور پیکیجنگ میٹریل شامل ہیں اور شرکأ سے کہا کہ وہ اِن سکیموں سے فائدہ اُٹھائیں۔اِس سے قبل ڈائریکٹر ہارٹی کلچر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ غلام جیلانی نے محکمہ کی ترقی، جامع زرعی ترقیاتی پروگرام(ایچ اے ڈِی پی)، جے کے سی آئی پی، فروٹ منڈیوں کو جوڑنے، جدید ٹیکنالوجی کا تعارف، ہدف شدہ گروپوں اور دیگر پیش رفت کے بارے میں معلومات کا اِشتراک کیا۔ دورانِ پروگرام جے کے سی آئی پی کے اجزأ اور عمل آوری کے بارے میں پرزنٹیشن بھی دی گئی تاکہ شرکأ کو منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔اِس موقعہ پر مختلف انجمنوں کے نمائندوں، کاروباریوں اور ترقی پسند کسانوں نے بھی خطاب کیا اور حکومتی اقدامات، ان کی توقعات، تجربات اور باغبانی شعبے کے معاشی کردار پر اَپنی آرأپیش کیں۔اِس میٹ میں پھل اُگانے والی انجمنوں ، تاجروں ، کارباریوں ،مقامی وبیرونی خریداروں ا ور ایچ پی اینڈ ایم کے اَفسران و ملازمین نے شرکت کی۔