جنگلات اور ماحولیاتی شعبے کیلئے اسٹریٹجک ترجیحات پر روشنی ڈالی
نئی دہلی//جموں و کشمیر کے وزیر برائے جنگلات ، ماحولیات مسٹر جاوید احمد رانا نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر برائے ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی مسٹر بھوپیبدر یادو سے ملاقات کی تا کہ جموں و کشمیر کے جنگلات اور ماحولیاتی منظر نامے سے متعلق اہم مسائل پر جامع تبادلہ خیال کیا جا سکے ۔ ملاقات کے دوران مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان گہرے تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا تا کہ ادارہ جاتی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے ، ماحولیاتی بحالی کو تیز کیا جا سکے اور کلیدی جنگلاتی اور ماحولیاتی پروگراموں کو موثر اور بروقت نافذ کیا جا سکے ۔ بڑھتی ہوئی شدید موسمی واقعات ، جیسے تیز بارش اور سیلاب کے پیش نظر مسٹر رانا نے جنگل کی آگ کے انتظام ، واٹر شیڈ ایریا کے علاج ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ویٹلینڈ ایکو سسٹم کے تحفظ میں ٹارگٹڈ مداخلتوں کے ذریعے جموں و کشمیر کی لچک کو مضبوط کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ۔ وزیر نے سینٹرلی اسپانسرڈ فاریسٹ فائر پریوینشن اینڈ منیجمنٹ ( ایف ایف پی ایم ) اسکیم کے تحت فنڈز کی فراہمی کی بھی درخواست کی ، جس کیلئے مالی سال 2024-25 کیلئے 3.5 کروڑ روپے کی تفصیلی منصوبہ بندی پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے ۔ مستقل فنڈنگ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر رانا نے مرکزی وزیر سے گذارش کی کہ وہ نیشنل کیمپا اتھارٹی کو ہدایت دیں کہ جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے دو بڑے منصوبوں کی تشخیص اور منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے ۔ مسٹر رانا نے کیرو اور کوار ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹس سے منسلک کیچمنٹ ایریا ٹریٹمنٹ ( سی اے ٹی ) پلانز اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے منصوبوں کیلئے مختص فنڈز کی رہائی کے دیرینہ مطالبے کو بھی دوہرایا ۔ جموں و کشمیر کی ڈیجیٹل گورننس میں ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر رانا نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ جموں و کشمیر جنگلاتی انتظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال میں سرفہرست رہا ہے ۔ مسٹر رانا نے مرکزی وزیر کی توجہ دو اہم مرکزی کفالت شدہ اسکیموں جنگلی حیات کے رہائش گاہوں کی مربوط ترقی ( آئی ڈی ڈبلیو ایچ ) اور آبی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے قومی منصوبے ( این پی سی اے ) کے تحت فنڈز کی رہائی کے معاملے پر بھی دلائی ۔ مسٹر رانا نے وزارت سے فوری مداخلت کی درخواست کی تا کہ ان تحفظی کوششوں میں خلل نہ پڑے ۔ جواب میں مرکزی وزیر نے جاوید رانا کو یقین دلایا کہ ملاقات کے دوران اٹھائے گئے تمام مسائل کو مناسب توجہ دی جائے گی ۔










