عوامی فلاح پر مبنی طرزِ حکمرانی کے عزم کا اعادہ کیا
مینڈھر(پونچھ)// وزیر برائے جل شکتی، جنگلات وماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے ڈاک بنگلہ مینڈھر میں ایک عوامی رابطہ پروگرام کا اِنعقاد کیا جس کا مقصد لوگوںسے براہِ راست رابطہ قائم کرنا اور زمینی سطح پر درپیش مسائل کا جائزہ لینا تھا۔اِس موقعہ پر وزیر نے لوگوںکی کی طرف اُٹھائے گئے وسیع پیمانے پر شکایات اور مطالبات کو بغور سُنا۔اہم مسائل میں پینے کے پانی کی فراہمی کی سکیمیں، سڑکوں کی رابطہ کاری، صحت سہولیات اور دیگر ضروری عوامی سہولیات کی فراہمی شامل تھیں۔مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی کاموں کو بروقت مکمل کیا جائے اور بنیادی سہولیات کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔وزیر موصوف نے عوامی مسائل پر ردِّعمل کرتے ہوئے یقین دِلایا کہ مینڈھر کے تمام جائز مسائل اور مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔اُنہوں نے جامع اور متوازن ترقی کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں کی بروقت اور ہموار عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے اِنتظامی اور طریقۂ کار سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر جاوید رانا نے اُٹھائے گئے مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کے اَفسران کو واضح ہدایات جاری کیں کہ جاری اور منظور شدہ ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جائے، مقررہ وقت پر سختی سے عمل کریں اور شفافیت و جوابدہی کو برقرار رکھتے ہوئے زمینی سطح پر ٹھوس نتائج کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مرکوزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی، جوابدہی اور فوری ردِّعمل عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کا بنیادی مقصدہے۔
وزیر موصوف نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ یقینی بنائیں کہ ترقی کے فوائد مقررہ وقت کے اندر نچلی سطح تک پہنچیں اور عوامی شکایات کا بروقت اور مؤثر اَزالہ کیا جائے۔عوامی رابطہ پروگرام کے دوران آل جموں و کشمیر نان گزٹیڈ فارسٹ آفیسرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے ایک یادداشت پیش کی جس میں فارسٹ گارڈز کے پے لیول کو پے لیول۔2 سے بڑھا کر پے لیول۔4 کرنے کا مطالبہ کیا گیاتاکہ اُنہیں پٹواریوں، جونیئر اسسٹنٹوں اور وِلیج لیول ورکروں (وِی ایل ڈبلیوز) کے مساوی رکھا جا سکے نیز فارسٹروں کے پے لیول کو پے لیول۔6 میں اَپ گریڈ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔وفد نے جنگلات کے تحفظ میں ہمہ وقت خدمات، رات کی ڈیوٹی اور جان کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے اڑھائی دن کی اِضافی تنخواہ اور رسک الاؤنس دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے جنگلات کے فرنٹ لائن عملے کو ان کی تکنیکی و خصوصی نوعیت کی ذِمہ داریوں کے پیش نظر تکنیکی زُمرے میں شامل کرنے کی بھی استدعا کی۔اِسی طرح ایک وفد نے اَپنے علاقوں کی سیاحت کی وسیع صلاحیت کو اُجاگر کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماحول دوست انفراسٹرکچر، عوامی شمولیت اور مقامی ماحول و ثقافت کے تحفظ کے ذریعے دیرپا اور ذمہ دار سیاحت کو فروغ دیا دے۔پونچھ سے آئے ایک اور وفد نے ضلع کے اہم ترقیاتی مسائل وزیر موصوف کو گوش گزار کئے جن میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سڑکوں کی رابطہ کاری اور بجلی کی فراہمی شامل ہیں۔وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ قدرتی وسائل کا تحفظ اور ماحولیاتی توازن بھی برقرار رہے گا۔عوامی رابطہ پروگرام میں چیف اِنجینئر جل شکتی جموں حنیف چودھری، سب ڈویژنل مجسٹریٹ مینڈھر عمران کٹاریہ، سپراِنٹنڈنٹ ہائیڈرولک پونچھ وپن کمار، پی ڈبلیو ڈِی، پی ایچ اِی اور پی ایم جی ایس وائی کے ایگزیکٹیو انجینئران، بلاک میڈیکل آفیسر مینڈھر اور ریونیو، آر ڈِی اینڈ پی آر، تعلیم اور دیگر متعلقہ محکموں کے سب ڈویژنل اَفسران نے شرکت کی جنہوں نے اَپنے اَپنے دائرۂ اِختیار میں جاری کاموں کی صورتحال سے وزیرموصوف کو آگاہ کیا۔ وزیر جل شکتی نے اَفسران کو ہدایت دی کہ قریبی بین محکمہ جاتی تال میل برقرار رکھا جائے اور عوامی رابطہ پروگرام کے دوران اٹھائے گئے مسائل پر باقاعدہ پیش رفت رپور ٹ پیش کی جائیں تاکہ مؤثر فالو اَپ اور بروقت حل کو یقینی بنایا جا سکے۔










