جاوید رانا نے پونچھ کیلئے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے اِمکانات کا جائزہ لیا

جموں// وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امورجاوید احمد رانا نے پونچھ ضلع میں شمسی توانائی کی پیداوار کے اِمکانات کا جائزہ لینے اور انہیں فروغ دینے کے لئے سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی محکمہ ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں پونچھ کو قابلِ تجدید توانائی کی ترقی کے لئے ایک ترجیحی ضلع کے طور پر قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں اس کے پہاڑی خطوں، بکھری ہوئی آبادیوں، سرحدی محلِ وقوع اور بجلی کی فراہمی میں بار بار آنے والی رُکاوٹوں کو مدنظر رکھا گیا۔ شمسی تنصیبات کے لئے تکنیکی طور پر موزوں مقامات کی نشاندہی پر تفصیلی بات چیت ہوئی جن میں سرکاری اَراضی، اِدارہ جاتی عمارتوں کی چھتیں اور کمیونٹی سطح کے مقامات شامل ہیں جبکہ ضلع کی سازگار شمسی شعاعوں اور موسمی حالات سے فائدہ اُٹھانے پر بھی غور وخوض کیا گیا۔وزیرجاوید رانا نے اس بات پر زور دیا کہ قابلِ تجدید توانائی بالخصوص شمسی توانائی، دور دراز، دورافتادہ اور سرحدی اَضلاع میں ترقیاتی منصوبہ بند ی کی بنیاد ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ شمسی توانائی نہ صرف صاف اور دیرپامتبادل ہے بلکہ توانائی کے تحفظ، روایتی گرڈ پر انحصار میں کمی اور موسمی خلل سے متاثرہ علاقوں میں مضبوطی کے لئے ایک سٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔دُور دراز اور قبائلی علاقوں میں شمسی توانائی کے حل کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی جہاں آف گرڈ اور ہائبرڈ سولر پلانٹس جیسے غیر مرکزی نظام گھروں، سکولوں، صحت مراکز، آنگن واڑی مراکز اور پانی کی فراہمی کی سکیموں کے لئے بلا تعطل بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔ وزیر موصوف نے مشاہدہ کیا کہ قابلِ اعتماد بجلی تک رسائی کا ان خطوں میں تعلیم کے نتائج، صحت خدمات کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور مجموعی معیارِ زندگی پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔میٹنگ میں اِس بات پر اتفاق کیا گیا کہ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی ضلع پونچھ کے لئے تفصیلی فزیبلٹی اسسمنٹ کو جلد مکمل کرے گاجن میں گرڈ سے منسلک اور سٹینڈالون سولر پروجیکٹوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ ایک منظم روڈ میپ تیار کیا جائے گا جو ضلعی سطح کی مداخلتوں کو مرکزی اور یونین ٹیریٹری کی قابلِ تجدید توانائی سکیموں کے ساتھ ہم آہنگ کرے گا جس میں ہم آہنگی، بہترین مالیاتی انتظام اور طویل مدتی دیرپائی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔میٹنگ میں سائنس و ٹیکنالوجی، ریونیو، پاور ڈیولپمنٹ، دیہی ترقی اور ضلعی اِنتظامیہ کے مابین قریبی بین الاضلاع کوآرڈی نیشن کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ بروقت منظوریوں، زمین کی نشاندہی اور ہموار عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ سرحدی دیہات اور خانہ بدوش و قبائلی آبادیوں کے لئے ہدفی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی اِداروں اور کمیونٹی اثاثوں کی سولرائزیشن کو ترجیح دی جائے گی۔
یہ اَقدام پونچھ میں صاف توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط کرنے، کاربن کے اخراجات کو کم کرنے اور حکومت کے وسیع ترویژن یعنی دیرپا، جامع اور حساس علاقوں کی ترقی بالخصوص ماحولیاتی طور پر نازک اور سٹریٹجک طور پر اہم علاقوں میں مدد کرنے کی توقع ہے۔میٹنگ میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ مینڈھر، ڈپٹی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ریونیو اور محکمہ جاتی اَفسران نے شرکت کی۔