جموں//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات وماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے ضلع ڈوڈہ کی مجموعی ترقیاتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی ورچیول جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں اہم بنیادی ڈھانچے منصوبوں کو تیز کرنے، آبپاشی سہولیات کو مضبوط بنانے، سڑک رابطوں کو بہتر بنانے اور مختص فنڈز کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر ڈوڈہ کرشن لال کے علاوہ تمام ضلعی سطح کے افسران نے شرکت کی۔ رکن اسمبلی ڈوڈہ شکتی راج پریہار اور رکن اسمبلی بھدرواہ دلیپ سنگھ پریہار بھی میٹنگ میں موجود تھے۔وزیر موصوف نے میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے افسران کو ہدایت دی کہ تمام جاری منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے اور منصوبوں کی عمل آوری کے دوران معیار کے سخت اصولوں کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے نتائج پر مبنی نگرانی پر زور دیتے ہوئے ان شعبوں میں کوششیں تیز کرنے کی ہدایت دی جہاں پیش رفت سست ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے وزیر کو ضلع میں ترقیاتی سرگرمیوں کی طبعی اور مالی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی جانکاری دِی اور مختلف محکموں کی طرف سے جاری مختلف ترقیاتی کاموں اور منصوبوں کی جاری صورتحال بھی پیش کی۔اُنہوں نے بتایا کہ ڈِسٹرکٹ کیپکس کے تحت مختلف محکموں اور سیکٹروںمیں مجموعی طور پر 2,432 کام شروع کئے گئے ہیں جن میں سے 1,625 مکمل ہو چکے ہیں اور اَب تک 71 فیصد اخراجات ہو چکے ہیں۔دیہی ترقی محکمہ (آر ڈِی ڈِی) کے تحت 2025-26 کے دوران 2,272 کام شروع کئے گئے جن میں سے 1,656 اَب تک مکمل کئے جا چکے ہیں۔وزیر جل شکتی جاوید رانا کو محکمہ وار پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ جل شکتی کے تحت 52 کام شروع کئے گئے جن میں سے 36 مکمل ہو چکے ہیں۔ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) نے 245 کام شروع کئے جن میں سے 99 مکمل ہو چکے ہیں۔ اِسی طرح جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی طرف سے 52 کام شروع کئے گئے جن میں سے 18 مکمل ہو چکے ہیں۔وزیرموصوف کو مرکزی سپانسر شدہ جل جیون مشن کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلع میں 212 سکیمیں شروع کی گئی ہیں جن میں سے 122 مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی مختلف مراحل میں ہیں۔وزیرموصوف نے ہر گھر جل سرٹیفکیشن کے ہدف کو حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے افسران کو ہدایت دی کہ تمام زیر اِلتوا ٔسکیموں کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ ہر گھر تک نلکے کے ذریعے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اُنہوں نے ضلع میں جاری بڑے منصوبوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ اور اس سے منسلک ہسپتال کی تعمیر، جس کی لاگت 164.9 کروڑ روپے ہے میں 75 فیصدفزیکل پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔ اسی طرح ڈوڈہ میں زیر تعمیر کثیر منزلہ کار پارکنگ کے کام میں بھی 75 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے۔وزیر جاوید رانانے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کے تحت سڑک رابطوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس سکیم کے تحت 179 منصوبے مقرر کئے گئے جن کے ذریعے ضلع کے 258 بستیوں کو سڑک رابطہ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت بتایا گیا کہ ضلع میں 3,122 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 822 گھروں پر روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کئے جا چکے ہیں۔میٹنگ میں جن دیگر اہم منصوبوں کا جائزہ لیا گیا ان میں شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر، دریائے چناب کے کنارے ریور فرنٹ کی ترقی، نیشنل ہائی وے-244 کی توسیع اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں ۔وزیر موصوف نے افسران کو ہدایت دی کہ ان منصوبوں کی قریبی نگرانی اور بروقت تکمیل کے لئے ہفتہ وار جائزہ میٹنگ منعقد کی جائیں۔دورانِ میٹنگ اراکین اسمبلی نے اپنے اپنے حلقوں سے متعلق مختلف مسائل کو اُجاگر کیا اور ان کے حل کے لئے وزیر سے مداخلت کی درخواست کی۔وزیر جاوید رانانے یقین دِلایا کہ تمام حقیقی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے گا اور متعلقہ محکموں کو ان کے فوری حل کے لئے ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔وزیر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت جموں و کشمیر کے اس عزم کا اعادہ کیاکہ یوٹی میں مساوی اور جامع ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے لئے خلوص، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں تاکہ حکومتی فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک مقررہ وقت کے اندر شفاف طریقے سے پہنچیں۔










