سری نگر//وزیر برائے جل شکتی جاوید احمد رانا نے جل شکتی محکمہ کے اعلیٰ اَفسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی جس میں حبہ کدل حلقے اور اِس کے ملحقہ علاقوں میں جاری پانی کی فراہمی کے مسائل کا جائزہ لیا جا سکے۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوف نے پانی کی تقسیم اورخدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے فوری اور مسلسل اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ پانی کی فراہمی کو بروقت اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت یقینی بنانے کے لئے ایک منظم واٹر سپلائی روسٹر تیار کیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے۔وزیر جل شکتی نے پانی سے متاثرہ علاقوں کو فوری راحت فراہم کرنے کے لئے ہدایت دی کہ ان علاقوں میں جہاں پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی غیر یقینی ہے وہاں 10 نئے ہینڈ پمپ نصب کئے جائیں۔اُنہوں نے پرانی پائپ لائنوں، پمپ سٹیشنوں اور فلٹریشن سسٹم جیسے اہم آبی ڈھانچے کی اَپ گریڈیشن کی اہمیت پر بھی زور دیا۔جاوید رانا نے کہا کہ عمر عبداللہ حکومت جموں و کشمیر میں بالخصوص شہری علاقوں میں جہاں پانی کی فراہمی میں رُکاوٹیں ہیں وہاں آبی خدمات اور ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔میٹنگ میں اَفسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ موجودہ رُکاوٹوں کی نشاندہی کریں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے مرحلہ وار منصوبہ مرتب کر کے پیش کریں تاکہ پانی کی فراہمی کا ایک قابل اعتماد اور دیرپا نظام قائم کیا جا سکے۔میٹنگ میں حبہ کدل میں نئے واٹر ریزروائر کی تعمیر پر بھی اتفاق ہواجس کا مقصد ذخیرہ ٔکرنے کی صلاحیت کو بڑھانا اور علاقے کی آبی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔وزیر موصوف نے حالیہ سیلاب سے ہوئے نقصانات کے تناظر میں نواکدل اور عالی کدل کے گھاٹوں کی فوری صفائی اور بحالی کی بھی ہدایات جاری کیں۔ میٹنگ میں رُکن قانون ساز اسمبلی حبہ کدل شمیم فردوس نے مقامی باشندوںکی شکایات اور مسائل بالخصوص پانی کی بار بار ہونے والی قلت اورحالیہ سیلاب سے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے حوالے سے آگاہ کیا۔










