جموں//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے آج جموں صوبے میں واٹر سپلائی مینجمنٹ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔دورانِ میٹنگ پانی کی فراہمی کی سکیموں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان میں بہتری لانے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ عوام کو واَفر اور دیرپا پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔میٹنگ میں چیف اِنجینئر پی ایچ ای جموں وِکاس شرما، سپراِنٹنڈنگ انجینئران اَجے شرما اور سنیل گندوترا سمیت دیگر اَفسران نے شرکت کی۔وزیر موصوف نے میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جاری واٹر سپلائی سکیموں کی جلد تکمیل پر زور دیابالخصوص جل جیون مشن کے تحت جاری سکیموں کی بروقت تکمیل کو ترجیح دینے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے پانی کی فراہمی کے نظام میں کسی بھی رُکاوٹ کو دُور کرنے کے لئے فوری اور مؤثر ردِّعمل کے طریقہ کار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر گھرکو محفوظ اور صاف پانی کی فراہمی کے اہداف کو بروقت حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔میٹنگ میں پانی کے ذخیرہ ٔکرنے والے ٹینکوں کی باقاعدہ صفائی اور دیکھ ریکھ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا تاکہ پانی کے معیار کو محفوظ رکھا جا سکے اور آلودگی سے بچا جا سکے۔وزیر موصوف نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ فلٹریشن پلانٹس کے مناسب کام کو یقینی بنائیں جو کمیونٹی کو صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی میں اہم کردار اَدا کرتے ہیں۔میٹنگ میں پانی کے وسائل کی دیر پائی کو یقینی بنانے کے لئے مؤثر واٹر رِی چارج حکمت عملی پر بھی غورو خوض کیا گیا۔مزید برآں، وزیر جاوید احمد رانانے ناکارہ ہینڈ پمپوں کی فوری مرمت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کی فعالیت بحال ہو اور پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط کیا جا سکے۔اُنہوںنے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کی ان اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جن کا مقصد پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا، خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانااور عوام کو محفوظ اور قابلِ اعتماد پانی کے وسائل تک یقینی رَسائی فراہم کرنا ہے۔










