سری نگر// وزیربرائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اورقبائلی امور جاوید احمد رانا اور وزیر برائے زراعت جاوید احمد ڈار نے سول سیکرٹریٹ سری نگر میں جموں و کشمیر میں آبپاشی کی موجودہ صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔یہ میٹنگ کسانوں کو درپیش آبپاشی کے مسائل اور متعلقہ محکمہ کی جانب سے اَپنائے گئے ردِّعمل کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لئے منعقد کی گئی تاکہ کھیتوں کو قابلِ اعتماد پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔میٹنگ میں اَرکانق قانون ساز اسمبلی غلام احمد میر، حسنین مسعودی، اِرشاد رسول کار، ہلال اکبر لون اور عرفان حفیظ لون نے بھی شرکت کی اور اَپنے اَپنے حلقوں میں آبپاشی کی فراہمی کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔میٹنگ میں لفٹ اور گریویٹی اری گیشن سکیموں، نبارڈ، کیپکس اور مرکزی معاونت والی سکیموں اور پانی کے مؤثر انتظام کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر برائے جل شکتی جاوید رانا نے کسانوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لئے مؤثر نظام بنانے اور آبپاشی کے مسائل سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے کہا،’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایک نازک صورتحال سے دوچار ہیں مگر ہمیں ان مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ دھان کی کاشت کے موسم میں کسانوں کے مسائل حل کرنا ہم سب کی اِجتماعی ذِمہ داری ہے۔
وزیر جاوید رانانے قلیل المدتی اور طویل المدتی دونوں اقدامات کرنے پر زور دیا تاکہ زمین پر موجود ضروریات کے مطابق آبپاشی کے پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔اُنہوں نے موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر مشینری اور انفراسٹرکچر دونوں کا جائزہ لینے پر بھی زور دیا۔سپراِنٹنڈنگ اِنجینئروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اَپنے اَپنے علاقوں کی مکمل رِپورٹ پیش کریں تاکہ دستیاب وسائل کو مضبوط اور بہتر بنانے کے اقدامات کئے جا سکیں۔دورانِ میٹنگ جاوید احمدرانا نے منصوبوں کی بروقت تکمیل، عوامی خدمات کی نگرانی، شفافیت، جوابدہی اور منصوبوں پر تیز رفتار عمل درآمد پر زور دیا تاکہ زرعی شعبے کو زیادہ بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اِس کے علاوہ ان نہروں کی بحالی پر بھی غوروخوض کیا گیا جو ماضی میں موجود تھیں مگر اب ان پر تجاوزات ہو چکی ہیں۔
جاوید رانا نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ آبپاشی نظام کو نقصان پہنچانے والی تجاوزات اور غیر قانونی کان کنی کی نشاندہی کریں تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری جل شکتی شالین کابرانے موجودہ آبپاشی کے ڈھانچے پر ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔اُنہوں نے لفٹ اور گریویٹی سکیموں نبارڈ کی مختلف آئی آئی ڈِی ایف سکیموں اور کیپیکس بجٹ 2025-26 کے تحت جاری سکیموں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں وزراء کو جانکاری دی۔ اُنہوں نے پی ایم کے ایس وائی۔ایچ کے کے پی سکیموں کے تحت نئی تجاویز اور کم بارش کی وجہ سے متاثرہ منصوبوں کی تفصیل بھی پیش کی۔شالین کابرا نے اِنکشاف کیا کہ ریاست بھر میں دریاؤں میں پانی کی اوسط مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے کئی آبپاشی سکیمیں متاثر ہو رہی ہیں۔










