سانبہ//وزیر برائے محکمہ زرعی پیداوار ، محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے آج سانبہ میں کسان میلہ کا اِفتتاح کیا جس میں اِختراع، ثانوی زراعت اور سرکاری سکیموں کے بارے میں بیداری پر دی گئی۔یہ تقریب قومی یومِ کسان (کسان دیوس) کے موقعہ پر منعقد کی گئی جو ہر سال 23 ؍دسمبر کو ہندوستان کے پانچویں وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی یومِ پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے۔اِس موقعہ پر وزیر موصوف خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میلے کا بنیادی مقصد سائنس دانوں، اِختراع کاروں اور کسانوں کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے تاکہ سائنسی مزاج کو فروغ دیا جا سکے اور جدید زرعی طریقوں کو اَپنانے کی حوصلہ اَفزائی ہو۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اِس طرح کے اَقدامات کسانوں کو زراعت میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں معلومات سے بااِختیار بنانے میں اہم کردار اَدا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس میلے کے ذریعے کسانوں کو جدید زرعی مشینری اور ٹیکنالوجی، بہتر بیج اقسام، عملی مظاہرے اور بہترین زرعی طریقوں سے روشناس کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ پروگرام زرعی صنعتی نمائشوں اور مختلف محکموں کے سائنس دانوں اور موضوعاتی ماہرین کے ساتھ روبرو بات چیت کے لئے بھی ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔اِس موقعہ پر دیگر معززین میں رُکن قانون ساز اسمبلی سانبہ سرجیت سنگھ سلاتھیہ، ممبر اسمبلی وِجے پور چندر پرکاش گنگا، ممبر قانون ساز اسمبلی رام گڑھ ڈاکٹر دیویندر کمار منیال، چیئرمین ڈِی ڈِی سی کیشو دت شرما،ضلع ترقیاتی کمشنر سانبہ آیوشی سوڈن، ڈی ڈی سی وائس چیئرمین اور زراعت و اس کے منسلک شعبوں کے سینئر اَفسران شامل تھے۔وزیر جاوید ڈار نے میلے میں مختلف محکموں، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) اور رضاکاروں کی جانب سے لگائے گئے سٹالوں کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے شرکأ سے بات چیت کی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے جدید زرعی طریقوں اور سرکاری سکیموں کے بارے میں بیداری پھیلانے میں اُن کی کوششوں کو سراہا۔اَراکین قانو ساز اسمبلی سانبہ، وِجے پور اور رام گڑھ نے بھی اِجتماع سے خطاب کیا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں زرعی شعبے کی وسیع صلاحیت کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ تنوع، جدید ٹیکنالوجی کا اِستعمال اور باغبانی، ڈیری اور زراعت پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینے سے نوجوانوں اور کسانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ قانون سازوں نے زراعت کو ایک دیرپا اور منافع بخش شعبہ بنانے کے لئے اِختراع، سکل ڈیولپمنٹ اور قدر میں اِضافے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی سے متعلق اقدامات کے لئے مسلسل تعاون کا یقین دِلایا۔میلے میں ضلع بھر کے کسانوں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا جس سے حکومت کی زرعی شعبے کو مضبوط بنانے اور زرعی کمیونٹی کی معیشت کو بہتر بنانے کے عزم کی دوبارہ تصدیق ہوئی۔










