جاوید احمد رانا نے داچھی گام میں وائلڈ لائف پروٹیکشن کے اہلکاروںکو اعزازات سے نوازا

جاوید احمد رانا نے داچھی گام میں وائلڈ لائف پروٹیکشن کے اہلکاروںکو اعزازات سے نوازا

داچھی گام// وزیربرائے جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے داچھی گام نیشنل پارک میں محکمہ وائلڈ لائف کے اَفسران و عملے کو محفوظ علاقوں کے تحفظ میں شاندار کارکردگی پر اعزازات سے نوازا۔وزیر موصوف مرکزی وزارتِ ماحولیات و جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے زیراہتمام وائلڈ لائف اِنسٹی چیوٹ آف اِنڈیا کے تحت مینجمنٹ ایفیکٹونس ایویلیوایشن (ایم اِی اِی) مشق میں 92.97 فیصد نمایاں سکور کے ساتھ ملک کا سب سے اعلیٰ درجہ حاصل کرنے والا محفوظ علاقے کو بنانے میں تعاون کرنے والے اَفسران اور دیگر شراکت داروں کو اعزاز دینے کے لئے داچھی گام نیشنل پارک میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔تقریب میں ممبر قانون ساز اسمبلی سلمان علی ساگر، کمشنر سیکرٹری جنگلات شیتل نندا، پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹ سریش کمار گپتا، چیف وائلڈ لائف وارڈن جموںوکشمیر سرویش رائے، دیگر اعلیٰ اَفسران، این جی اوز کے نمائندگان، تربیت حاصل کرنے والے اَفسران اور دیگ سٹاف نے شرکت کی۔جاوید احمد رانا نے کہا کہ داچھی گام نیشنل پارک کی کامیابی محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف ماہرین اور مقامی کمیونٹیوں کے تحفظ کے لئے عزم اور لگن کا ثبوت ہے۔اُنہوں نے کہا،’’حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی اِنتظام، عملے کی کارکردگی اور عوامی شمولیت میں اس پارک نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ دیگر محفوظ علاقوں کے لیے مثال ہے۔‘‘وزیر موصوف نے کہا کہ ابھی ایک طویل سفر باقی ہے اور اُمید ظاہر کی کہ محکمہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔ یہ کامیابی جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں کے لئے رہنما اصول ہونی چاہیے۔اُنہوں نے کہا،’’مجھے یقین ہے کہ داچھی گام نیشنل پارک کی کامیابی آنے والی نسلوں کو قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے تحریک دے گی۔‘‘
وزیر جنگلات و ماحولیات نے ماحولیاتی حدود کی خلاف ورزی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج دُنیا کو درپیش موسمیاتی مسائل اِنسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا شدہ ماحولیاتی عدم توازن کا نتیجہ ہیں۔وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر کو قدرتی وسائل کی فراوانی ملی ہے جس سے ہماری ذِمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔اُنہوں نے عوامی بیداری، شکار مخالف اقدامات اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ساتھ ہی ہانگل کی بڑھتی ہوئی آبادی کو خوش آئند قرار دیا جو حالیہ مارچ 2025 ء کے سروے میں 323 ریکارڈ کی گئی جو ایک قابلِ اطمینان تعداد ہے۔وزیر نے تحفظی کوششوں کو مزید فروغ دینے کے لئے کئی اقدامات کا اعلان کیا جن میںپانچ وائلڈ لائف ریسکو سینٹروںکو سنٹرل زو اتھارٹی سے باضابطہ منظوری دلوانا،18 نئے ٹریکنگ روٹوں کو فعال بنانا تاکہ ماحولیاتی بیداری اور ذمہ دارانہ مہم جوئی کو فروغ دینا، وائلڈ لائف کے مسکن کو بہتر بنانے کی کوششیں ، گڑھوں کی تعمیر اور پھل دار پودوں کی شجرکاری شامل ہے۔اُنہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے ماحولیاتی ورثے کے تحفظ، ایکو ٹوراِزم کو فروغ دینے، حیاتیاتی تنوع کی نگرانی اور رہائش گاہوں کی بحالی کو فروغ دینے کے عزم کو دہرایا۔اِس موقعہ پر وزیر جنگلات و ماحولیات نے وائلڈ لائف ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر کا اِفتتاح کیا اور اَفسران کے لئے وائلڈ لائف قوانین پر ایک روزہ لازمی تربیتی کورس کا آغاز کیا جس کا مقصد تحفظ شدہ علاقوں کے اِنتظام و تحفظ میں عملے کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔اُنہوں نے تقریب کے حوالے سے ایک کتابچہ بعنوان ’’ان سائٹس ٹو وائلڈ لائف ہیلتھ‘‘ اور ایک سکرول آف آنر بھی جاری کیا۔اِس موقعہ پرممبر اسمبلی سلمان ساگر نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور مقامی لوگوں میںبیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کمشنر سیکرٹری شیتل نندا نے کہا کہ داچھی نیشنل پارک کو قومی سطح پر جو مقام ملا ہے وہ ہم سب کے لئے باعثِ فخر ہے۔ تاہم، ترقی کے دباؤ کے باوجود ماحولیاتی توازن برقرار رکھنا آئندہ برسوں میں ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹ سریش کمار گپتا نے کہا کہ تحفظ کی اس مہم میں کئی چیلنجز درپیش ہیں اور ہمیں ان علاقوں میں بھی بہترین طریقوں کو اپنا ناہوگا جہاں ابھی ترقی کی گنجائش باقی ہے۔