جاوید احمدرانا نے بسالی میں آؤٹ ریچ پروگرام کی صدارت کی

جاوید احمدرانا نے بسالی میں آؤٹ ریچ پروگرام کی صدارت کی

سرحدی علاقوں کے مسائل کا وقت مقررہ میں حل کرنے کا عزم

راجوری//جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور کے وزیر مسٹر جاوید احمد رانا نے سرحدی ضلع راجوری کے ڈونگی بلاک کے بسالی علاقے کا دورہ کیا ۔ یہ دورہ حکومت کی عوامی سطح پر مسائل کے حل اور دور دراز اور سرحدی علاقوں میں مساوی ترقی کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے ۔ وزیر نے مقامی لوگوں کی شکایات کو غور سے سُنا ۔ ان میں سے زیادہ تر دور دراز علاقوں میں زندگی کی روز مرہ کی جدو جہد سے متعلق تھیں جن میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی ، بجلی کی بلا خلل سپلائی ، نازک سڑک کی رابطہ کاری اور صحت و تعلیم کی خدمات میں موجود خامیوں کا ذکر شامل تھا ۔ وزیر موصوف نے ایل او سی کے ساتھ رہنے والے قبائلی آبادی کے منفرد چیلنجوں کو تسلیم کیا اور یقین دلایا کہ تمام جائیز شکایات کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے گا ۔ قبائلی رہائشیوں نے اپنی حقیقی زندگی کی بنیاد پر متعدد مطالبات پیش کئے ۔ ان میں حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اضافی سرحدی بنکرز کی فوری ضرورت ، گورنمنٹ مڈل سکول بسالی کی اپ گریڈیشن ، پانی کی مسلسل کمی کا مقابلہ کرنے کے اقدامات اور ایمر جنسی میں ایمبولینس سروس کی دستیابی شامل تھی ۔ انہوں نے جنگلات کی منظوری کے مسائل کی وجہ سے ہونے والی تاخیروں پر بھی روشنی ڈالی جو اکثر قبائلی علاقوں میں واقع جنگلات والے علاقوں میں اہم ترقیاتی کاموں کو روکے رکھتے ہیں ۔ ترقی اور شمولیت کی خواہشات کی عکاسی کرنے والے دیگر اہم مطالبات میں ڈونگی کو تحصیل کا درجہ دینا ، سرحدی سڑکوں کی مرمت اور اپ گریڈ کرنا ، چرواہوں کی روزی روٹی کی معاونت کیلئے ویٹر نری سنٹر کھولنا ، تعلیم کو فروغ دینے کیلئے لڑکیوں کا ہوسٹل قائم کرنا اور جل جیون مشن کے تحت کاموں میں تیزی لانا شامل ہیں ۔
عوام نے سب سنٹر بسالا کو ایک مکمل پرائمری ہیلتھ سنٹر میں اپ گریڈ کرنے ، تھتھیالی ۔ چلاس سڑک کی تعمیر اور علاقے کی سیاحتی صلاحیت کو نکھارنے اور استعمال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جاوید احمد رانا نے کہا کہ حکمرانی کو آخری کونے خاص طور پر قبائلی اور سرحدی علاقوں تک پہنچنا چاہئیے ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اٹھائے گئے ہر مسئلے کو متعلقہ محکموں کے ساتھ اٹھایا جائے گا تا کہ اس کا فوری اور موثر حل نکالا جا سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ برادری کو قبائلی ترقی کیلئے حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں کے ساتھ فعال طور پر منسلک ہونا چاہئیے اور زور دیا کہ اگاہی اور شرکت ہی تبدیلی کی کلید ہے ۔ علاقے کی قدرتی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر نے باغبانی اور لائیو سٹاک ( جانوروں کی پرورش ) کے محکموں کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مخصوص ترقیاتی منصوبے تیار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ باغبانی ، مویشی پالنے اور متعلقہ سرگرمیوں کیلئے بہت بڑی صلاحیت رکھتا ہے ، جو آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں اور قبائلیوں کی روائتی روزی روٹی کو بھی محفوظ رکھ سکتی ہیں ۔
اس سے قبل محکموں کے افسران نے اجتماع کو مختلف فلاحی اسکیموں کے بارے میں بریفنگ دی اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ روز گار کی حمایت سے لیکر انفراسٹرکچر کی ترقی تک تمام فوائد حاصل کریں ۔ اس موقع پر ایم ایل اے راجوری افتخار احمد ، ایم ایل اے تھنہ منڈی مظفر اقبال خان ، اے ڈی سی راجوری ، محکمہ جل شکتی ، قبائلی امور ، جنگلات اور دیگر ضلعی اور شعبہ جاتی افسران موجود تھے ۔