کسانوں کی فلاح و بہبود کی سکیموں پر رائے طلب کی
اودھمپور// وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج،اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے آج سبھاش سٹیڈیم اُودھمپور میں منعقدہ ضلعی کسان میلے کی صدارت کی۔ اس میلہ کا اِنعقاد محکمہ زرعی پیداوار و بہبودِکساناںضلع اودھمپور کی طرف سے کیا گیا تھا جس کا مقصد کسانوں کے باہمی رابطے کو فروغ دینا، زراعت اور اس سے منسلک شعبوںمیں نئے آلات اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بیداری فراہم کرنا اور کسان کمیونٹی تک مختلف سرکاری فلاحی سکیموں کی معلومات پہنچانا تھا۔اِس موقعہ پر چیئرمین ڈِی ڈِی سی اودھمپورلال چند، رُکن قانون ساز اسمبلی چنانی بلونت سنگھ منکوٹیہ،ممبر اسمبلی اودھمپور ویسٹ پون کمار گپتا، رُکن قانون ساز اسمبلی اُودھمپور ایسٹ رنبیر سنگھ پٹھانیہ، ڈِی ڈِی سی ممبران سبھاش چندر، پنکی دیوی اور آشو شرما، ڈائریکٹر ایگری کلچر جموں انیل گپتا، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر جموں، ڈائریکٹرز شیپ ہسبنڈری اور اینمل ہسبنڈری جموں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اُودھمپور پریم سنگھ، مختلف محکموں کے سینئر اَفسران، دیگر ضلعی اَفسران اور ضلع بھر سے بڑی تعداد میں کسان موجود تھے۔مختلف سرکاری محکموں بشمول زرعی، باغبانی، ریشم پروری، اینمل و شیپ ہسبنڈری، فلوری کلچر، روزگار اور سیلف ہیلپ گروپوں نے بیداری سٹال قائم کئے جہاں کسانوں کو جاری سکیموں اور اقدامات کے بارے میں معلومات دی گئیں۔ وزیر موصوف نے چیئرمین ڈِی ڈِی سی اور اراکین قانون ساز اسمبلی کے ہمراہ ان سٹالوں کا معائینہ کیا ،اَفسران اور اِستفادہ کنندگان سے بات چیت کی، سکیموں کے زمینی نفاذ کا جائزہ لیا اور کسانوں سے روبرو فیڈ بیک حاصل کیا۔براہِ راست فیڈ بیک حاصل کیا۔وزیر جاوید ڈار نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت پوری طرح سے کاشتکاری کو بنیادی ضرورت کی سرگرمی سے مستحکم، مسابقتی اور تجارتی طور پر قابل عمل زرعی معیشت میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے تاکہ کسانوں بالخصوصی نوجوانوں اور خواتین کے لئے زیادہ اور آمدنی میں اِضافہ کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے ’’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی) ‘‘کو ایک اہم فلیگ شپ فریم ورک قرار دیا جس میں زراعت، باغبانی، مویشی پروری، ماہی پروری، بیج اور متعلقہ شعبوں کوکسان پر مبنی ویژن کے تحت مربوط کیا گیا ہے ۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ’’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی) ‘‘ معیاری بیج اور پودے لگانے کے مواد، فارم میکانائزیشن اور کسٹم ہائرنگ، محفوظ کاشت اور تنوع، فصل کے بعد کے اِنتظام، پروسسنگ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور موسمیاتی کاشتکاری کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔وزیرموصوف نے مزید کہا کہ جے کے سی آئی پی کے تحت پروسسنگ، سٹوریج، گریڈنگ، پیکنگ اور لاجسٹکس سے متعلق زرعی کاروباروں پرتوجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ کسان اپنی پیداوار کی قدر میں زیادہ حصہ حاصل کر سکیں۔اراکین قانون ساز اسمبلی چنانی ،اودھمپور ایسٹ اور اودھمپور ویسٹ کے علاوہ چیئرمین ڈِی ڈِی سی اودھمپور نے بھی اِجتماع سے خطاب کیا۔ اُنہوں نے اَپنے اَپنے حلقوں میں کسانوں کو درپیش اہم مسائل اور چیلنجوں کو اُجاگر کیا اور مقامی زرعی مسائل کے حل کے لئے ہدفی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔










