28-01-2021/=تیونس سٹی :تیونس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں زخمی ہونے والا شخص اسپتال میں جانبر نہ ہوسکا ۔ جس کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ ہیکل راشدی مظاہرے کے دورانآنسو گیس کا شیل لگنے سے زخمی ہوگیا تھا۔ موت کی اطلاع ملنے پر مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے اور سبیطلہ میں ایک پولیس اسٹیشن کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی۔ دارالحکومت کے علاقے حبیب بورقیبہ ایونیو میں گزشتہ روز مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور شہریوں نے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تیونس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب تک ایک ہزار افراد کو گرفتا ر کیا جاچکا ہے۔ پولیس مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے اور شہریوں پرآنسو گیس کی شیلنگ جاری ہے۔ وسطی، دیہی اور جنوبی علاقے مظاہروں اور فساد کی لپیٹ میں ہیں۔ ساحلی شہر سوسہ کے علاوہ اب احتجاج وسطی شہروں سبیطلہ اور القصرین تک پھیل چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیونس میں غربت ، بدعنوانیوں اور نا انصافیوں کے خلاف عوامی انقلاب کوایک عشرہ ہونے کو ہے ، لیکن سابق مطلق العنان صدر زین العابدین کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی شمالی آفریقہ میں واقع مسلم عرب ملک کی معیشت میں بہتری نہیں آسکی۔










