سری نگر//جموںوکشمیر اِس سال بجلی شعبے کے ترسیلی سیکٹر میں سب سے زیادہ صلاحیتوں کا اِضافہ کرے گا۔ 220کے وی سطح پر 1690 ایم وی اے کی صلاحیت اور 132 سطح پر 1280 ایم وی اے کی اِس برس کو شامل کرنے کا ہدف ہے جو کہ یوٹی کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہوگا۔ اِس بات کی جانکاری آج سول سیکرٹریٹ سری نگر میں جموںوکشمیر پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن کے اَفسران کی میٹنگ میںدی گئی جو پرنسپل سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ روہت کنسل کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں جموں و کشمیر میں ترسیلی سیکٹر کے جاری منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ڈی سی ایل ، ڈائریکٹر فائنانس پی ڈی ڈی ، سی ای جے کے پی ٹی سی ایل، سیکرٹری ٹیکنیکل سی ای کے پی ڈی سی ایل نے شرکت کی جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر جے پی ڈی سی ایل ، ایم ڈی جے کے پی ٹی سی ایل ، ڈی جی پلاننگ پی ڈی ڈی ، سی اِی جے کے پی ٹی سی ایل اور سی ای جے پی ڈی سی ایل نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ اِس برس یوٹی کیپکس کے تحت 400کروڑ روپے کی اِس شعبے میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں جموں کے گلیڈنی میں 400 ایم وی اے ڈیورٹیڈ ٹرانفارمر بینک کی تبدیلی ، بشناہ گرڈ سٹیشن پر 160ایم وی اے کی گنجائش ، کشمیر دلنہ میں 220132/ سطح پر 160 ایم وی اے کا اضافہ شامل ہے ۔ترسیلی سیکٹر کے 30 منصوبوں میں سے جو وزیر اعظم کے ترقیاتی پیکیج ( پی ایم ڈی پی ) کے تحت 834.85 کروڑ روپے سے شروع کئے گئے ہیں،11مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 17 اس سال مکمل ہونے کی توقع ہے۔میٹنگ میں کیپکس ، پی آئی اے ، پی جی سی آئی ایل ، پی ایس ڈی ایف کے تحت دیگر آئی آر سی او این اور این ایچ اے آئی منصوبوں کی پیش رفت پر تبادلہ خیال اور جائزہ لیا گیا۔پرنسپل سیکرٹری نے کہاکہ گزشتہ کئی برسوں سے غیر فعال اورخستہ حال منصوبوں کو تیزی سے بحال کیا گیا ہے ۔ 132 کے وی ہیرانگر۔ بٹل منوال ٹرانسمیشن لائین پروجیکٹ جو کہ تقریبا ایک دہائی سے رُکا پڑاتھا اسے دوبارہ بحال کیا گیا ۔پونچھ اور راجوری میں بجلی کو بہتر بنانے کے لئے درابا سے چاندک تک 132 کے وی ڈی/ سی ترسیلی لائین تقریباً 7 برس سے زیرِاِلتوأ تھی، وہ مکمل ہوچکا ہے اور پونچھ کے باشندگان کو بجلی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے ۔طویل عرصے سے زیر اِلتوأ او پی جی پروجیکٹ کو بھی بحال کیا گیا ہے اور اس میںسرعت لائی گئی ہے۔دورانِ میٹنگ پرنسپل سیکرٹری نے تمام کلیدی منصوبوں بشمول واگورہ ۔ میر بازار ، واگور ہ ۔ بڈگام۔ زینہ کوٹ، زینہ کوٹ ۔ آلسٹینگ سیکشن ، آلیسٹینگ ۔ میر بازار سیکشن ، 220 کے وی ٹرانسمیشن لائنز پرو جیکٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں رام بن ۔ کھیلنی 132کے وی ڈی/سی اور کھیلنی ۔ کشتواڑ لائینوں کی تکمیل میں صورتحا ل اور رُکاوٹوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو کئی برسوں سے بندتھا۔پرنسپل سیکرٹری نے چیف اِنجینئر اور دیگر اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام زیراِلتوأ مسائل کو حل کریں تاکہ ڈوڈہ ضلع کے صارفین کو بجلی سے متعلقہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میٹنگ میں جے کے پی ٹی سی ایل میں پی ایم آر پی کے تحت چلائی جانے والی 132 کے وی راولپورہ ۔ بڈگام ۔ بمنہ، بادام پورہ ۔ بانڈی پورہ ٹرانسمیشن لائینوں کی موجودہ طبعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ۔اِس کے علاوہ دیگر پروجیکٹوں کی عمل آوری میں پیش رفت کی حالت بشمول لاسی پورہ میں ایل آئی ایل او 220 کے وی ڈی /سی واگورہ ۔میر بازار لائین ، آلسٹینگ ۔نیو ونپو لائین تیل بل ،220کے وی دلنہ۔زینہ کوٹ لائین،مختلف اضافی گرڈ سٹیشنوں جیسے بشناہ، گلائیڈنی ،چیووادھی رام بن کا بھی میٹنگ میں جائزہ لیا گیا۔ڈیپارٹمنٹ اور جے کے پی ٹی سی ایل کی طرف سے اَب تک کے سب سے بڑے منصوبوں کو مکمل کرنے اور 220 کے وی اور 132 کے وی دونوں سطحوں پر سب سے بڑی صلاحیت کے اِضافے کو یقینی بنانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری نے اَفسران کو پی ایم آر پی ، پی ایم ڈی پی کے تحت باقی تمام پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کی تلقین کی۔ اُنہوں نے کہا کی کہ آر او ڈبلیو ، اراضی کے حصول یا فارسٹ کلیرنس کے معاملات کو منصوبوں کی پیش رفت میں رُکاوٹ نہیں بننے دینا ہے۔اُنہوں نے فیلڈ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ زیر اِلتوأ مسائل بشمول آر او ڈبلیو ، معاوضے ، اراضی کے حصول دیگر رُکاوٹوں کے بارے میں ایک تفصیلی ٹاور وار اور ضلع وار رِپورٹ تیار کر کے اسے متعلقہ حکام کے ساتھ حل کریں۔اُنہوں نے فیلڈ اَفسران سے کہا کہ وہ اس مقصد کے لئے ریونیو اور جنگلاتی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ یہ تمام منصوبے عوامی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی تکمیل اور اِستعمال سے بجلی کی ترسیلی صلاحیت میں اضافہ ہوگا ۔










