Mufti Nasir ul Islam

توہین آمیز ریمارکس قابل قبول نہیں،ملوث شخص کیخلاف کاروائی کی جائے

مفتی اعظم جموںوکشمیر مفتی ناصر الاسلام کی سخت مذمت

سرینگر//مفتی اعظم جموںوکشمیر مفتی ناصر الاسلام نے میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ہندو جنونی نرسگھانند سرسوتی کی طرف سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیے گئے توہین آمیز ریمارکس کی شدید مذمت کی ہے۔ کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق مفتی ناصر الاسلام نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے تبصرے ناقابل قبول، نقصان دہ اور توہین آمیز ہیں، جو دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے لیے تکلیف کا باعث ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہونے کے ناطے، کسی بھی مذہب کے خلاف ہتک آمیز تبصروں کو برداشت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو متاثر کرتے ہیں۔مفتی ناصر الاسلام نے مجرم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اوران کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے جو دوسروں کیلئے تنبیہ بن جائے تاکہ دوسروں کو بھی اس طرح کے پُرتشدد رویے میں ملوث ہونے سے روکا جا سکے اوراس طرح کی زبان درازی کرنے کی کوئی جرات نہیں کرے گا ۔انہوں نے کہا ہے کہ ایسے واقعات کے پیش آنے سے ملک وقوم میں ایک خلفشار پیدا ہوتا ہے اورکہا کہ یہ واقعہ مختلفمذاہب کے لوگوں کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم کوزک پہنچاتاہے ۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کوئی بھی مشکل براداشت کرسکتا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کسی بھی صورت میں ناقابل برداشت ہے کیونکہ ہر کسی مسلمان کیلئے حضرت محمد صلی اللہ عیلہ وسلم کی ذات اقدس اپنے مال واولاد ،اپنے ماں باپ اور زمین وآسمان کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب اور پیارا ہے ۔