ترکیہ کے وزیرداخلہ نے دارالحکومت استنبول میں دھماکے کا ذمہ دار کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کو قراردےدیا جبکہ ایک مشتبہ ملزم کو بھی گرفتار کرلیا۔مانیٹرنگ کے مطابق گزشتہ روز (15 نومبر کو) ترکیہ کے دارالحکومت استنبول کے تقسیم اسکوائر میں تاریخی استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کے نتیجے میں 6افراد جاں بحق اور 53زخمی ہوگئےتھے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔سرکاری نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق وزیرداخلہ سلیمان سولیو نے بتایا کہ دھماکا نصب کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کے مطابق دہشت گرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) واقعہ کا ذمہ دار ہے۔مغربی اتحاد اور ترکیہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم ’کردستان ورکرز پارٹی‘ کو بلیک لسٹ کی فہرست میں شامل کرلیا گیا تھا، کُرد نے 1980کی دہائی سے شمالی مشرقی ترکیہ میں خود ساختہ حکومت اختیارکرکے شدت پسندی قائم کر رکھی ہے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے استقلال میں دھماکے میں مذمت کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کا ہے، ہمارا کہنا غلط بھی ہوسکتا ہے، لیکن ابتدائی طور پر یہ اشارے مل رہے ہیں کہ استنبول میں دھماکا ایک ’دہشت گردی‘ تھی۔ترکیہ کے نائب صدر فوات اوکتے نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے جس میں ایک حملہ آور ملوث ہے، ہم اس سے قبل سمجھ رہے تھے کہ واقعے میں ایک خاتون ملوث ہے۔وزیر انصاف بیکر روزڈاگ نے کہا کہ جائے وقوع پر ایک خاتون میز پر 40منٹ سے بیٹھی تھی اور پھروہاں سے اٹھ کرچلی گئی تھی۔انہوں نے ہیبر ٹی وی کو بتایا کہ خاتون کے جانے کے ایک یا دو منٹ کے بعد دھماکا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر دو وجوہات ہوسکتی ہیں بستے میں کوئی میکنزم ہوسکتا ہے۔










