تحقیقات آغاز ،بینک اہلکاروں کی طلبی ،لوگوں کی سی بی آئی جانچ کی مانگ
سرینگر// ترکہ وانگام شوپیان میں معمر شہریوں کے بینک کھاتوں سے فراڈ طریقے سے لاکھوں روپے نکالنے کا معاملہ سامنے آنے کے ساتھ مزید نئے معاملے سامنے آنے لگے ہیں جبکہ پولیس نے اس حوالے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے جموں و کشمیر بینک برانچ ترکہ وانگام کے منیجر سمیت کئی ملازمین سے پوچھ تاچھ شروع کی ہے ۔مذکورہ بینک شاخ میںیکے بعد دیگرے معمر صارفین کے کھاتوں سے فراڈ طریقے سے رقومات نکالے جانے کے معاملے کی صورتحال اس وقت تشویش ناک ہوئی جب متعدد معمرصارفین کا بنک کھاتوں کوخالی پایا ۔بینک فراڈ کا پہلا معاملہ تب سامنے آیا جب ترکہ وانکام کے 85سالہ برزگ شہری مرحوم محمد یوسف شاہ کے بینک اکاونٹ نمبر060004010002319سے ساری رقم اس کے انتقال کے ایک دن بعد غائب پائی گئی ۔محمد یوسف کے فوت ہونے کے چند ہفتے بعد جب اس کی اکلوتی بیٹی ظریفہ نے بینک جاکر اس کے والد کا اکاونٹ چیک کیا تو وہاں یہ پتہ چلا کہ محمد یوسف شاہ کے فوت کے ایک دن بعد ہی یعنی14جنوری 2019کو بینک کھاتے سے تمام رقم نکالی گئی ہے۔ظریفہ سے اس حوالے سے بینک اہلکاروں سے پتہ لگانے کی کوشش کی تو یہ پتہ چلا کہ مدثر الحسن شاہ ولد غلام حسن شاہ ساکن ترکہ وانگام نے یہ رقم نکالی ہے ۔ظریفہ نے اس حوالے سے پولیس میں شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس اسٹیشن زینہ پورہ نے معاملے کی تحقیقات شروع کی ۔اسی دوران مذکورہ بینک برانچ میں ایک اور فراڈ کا انکشاف اس وقت ہوا جب ترکہ وانگام کے عبدالغنی لون نامی معمر شہری کے بینک اکاونٹ سے 177000روپے غائب پائے گئے ۔مذکورہ شہری کے بھائی محمد یوسف لون نے بتایا ’’میرا بھائی جسمانی طور ناتوان اور کمزور ہے اور بینک برانچ پر کم ہی آتا ہے اور اسے موبائل بھی نہیں ہے جسے اسےSMSآتا کہ کھاتے سے کب اور کتنی رقم نکالی گئی‘‘ ۔انہوں نے بتایا کہ اچانک جب وہ بینک پر گیا تو کھاتے سے فراڈ طریقے رقم نکالے جانے سے وہ سکتے میں آگیا ۔جب یہ خبر علاقے میں پھیل گئی تو دیگر بینک صارف بھی اپنے کھاتے چیک کرنے کیلئے جس دوران متعدد بینک کھاتوں سے لاکھوں روپے نکالنے کا انکشاف ہوا ۔نلے پوشہ واری ،ملہ ڈھیر ،سوگن ،ترکہ وانگام اور ملحقہ دیہات کے لوگوں نے بینک برانچ کی غیر ذمہ دارنہ رول پر بھی سوالیہ لگاتے ہوئے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔ادھر پولیس اسٹیشن زینہ پورہ نے معاملے کی نسبت جانچ شروع کی ہے اوربینک منیجر سمیت کئی ملازمین سے پوچھ تاچھ کی گئی ۔اس دوران بینک نے 35لاکھ روپے مختلف کھاتوں سے بازیاب کئے ہیں تاہم لوگوں کاالزام ہے کہ یہ کروڑوں کی مالی فراڈ ہے ۔اس دوران علاقہ کے ایک نامور قانون داں اور ایک سماجی کارکن کے علاوہ علاقہ کے ذی عزت شہریوں نے ترکہ وانگام بینک فراڈ معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی غیر جانبدارنہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔ایڈوکیٹ محسن نبی نے اس معاملہ کو لیکر پولیس تھانہ زینہ پورہ میں زیر رجسٹریشن نمبر1494000207240003زیر دفعہ 316(5}آف بی این ایس کے تحت شکایت درج کرائی ہے ۔ادھر جنوبی کشمیر کے معروف سماجی کارکن ڈاکٹر باری نے کئی متاثرہ بنک صارفین کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کرکے تفاصیل جمع کیں ہیں ۔اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے اور جلد ہی ملزموں کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے کی بازیابی متوقع ہے ۔










