ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں طلبہ اور نوجوانوں کا اہم کردار

نئی دہلی/یواین آئی//نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا ہے کہ آزادی کی صد سالہ تقریب 2047 تک ملک کو ایک ترقی یافتہ قوم میں بدلنے کے لیے اقتصادی ترقی، سماجی شمولیت، تکنیکی پیش رفت، ماحولیاتی پائیداری اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہوگی اور اس وژن کو حقیقت بنانے میں طلبہ اور نوجوانوں کا کردار سب سے اہم رہے گا۔ رادھا کرشنن نے ہفتہ کو ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں مرکزی یونیورسٹی کے نویں تقریب اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کے ویژن میں ملک کے نوجوانوں کی حیثیت کلیدی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا وژن مساوات اور شمولیتی ترقی پر مبنی ہونا چاہیے ، جس میں کسی ریاست یا سماج کے کسی طبقے کو پیچھے نہ چھوڑا جائے ۔ ہماچل کو دیو بھومی اور ویر بھومی قرار دیتے ہوئے نائب صدر نے ریاست کی شاندار مہمان نوازی، زندہ دل ثقافت اور دیرپا روایات کی تعریف کی اور کہا کہ ریاست نے ملک کی مسلح افواج میں نمایاں تعاون دیا ہے ۔ ہندوستان کی علمی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نالندہ یونیورسٹی اور تکشیلا جیسے عظیم قدیم تعلیمی مراکز اپنے اساتذہ کے علم، دانشوری اور مسلسل فکری ترقی کے سبب پھلے پھولے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اساتذہ اور آچاریہ زندگی بھر سیکھتے رہے اور مباحث، مکالمے اور تحقیق کے ذریعہ اپنے علم کو نکھارا اور ایسا ماحول بنایا جہاں خیالات کی نشوونما ہوئی اور تہذیبیں آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید یونیورسٹیوں کو بھی اسی جذبے کو اپنانا چاہیے اور تدریس میں جدت، بین مضامین تحقیق اور عالمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے ۔ نائب صدر نے کہا کہ ہماچل پردیش مرکزی یونیورسٹی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو جوش و خروش سے نافذ کر رہی ہے اور ہندوستانی علمی روایات سے متعلق مضامین کو شامل کر رہی ہے ، جس سے تعلیم میں ایک نئی ثقافت کو فروغ مل رہا ہے ۔ انہوں نے یونیورسٹی کی جانب سے کئی تخلیقات کا ڈوگری میں ترجمہ کرنے اور ہندی ادب کا پنجابی میں ترجمہ کرنے کی پہل کی تعریف کی اور کہا کہ دیسی فکر اور ہندوستانی تحقیقی طریقوں پر اس کا زور ہندوستان کی علمی روایات میں نئے سرے سے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیق، اساتذہ کی مہارت کا تبادلہ، ڈیجیٹل وسائل اور علمی تبادلے کے ذریعہ ایسی شراکتیں ایک وسیع تعلیمی برادری تشکیل دے سکتی ہیں، جس سے طلبہ اور محققین دونوں کو فائدہ ہوگا اور ترقی یافتہ ہندوستان کیلئے عالمی سطح پر مسابقتی اعلیٰ تعلیم کا نظام قائم کرنے میں مدد ملے گی۔