Kashmiri Pandith

ترال میں کشمیری پنڈت خاتون کی آخری رسومات انجام دینے میں مقامی مسلمان پیش پیش رہے

سرینگر//جنوبی کشمیر کے ترال میں ایک پنڈت خاتون گزشتہ رات یہاں انتقال کر گئی ہے جس خبر دوران پھیلنے کے ساتھ ہی مقامی مسلمانوں نے کے گھر پہنچ کر ان کے غم میں برابر شریک رہے جبکہ آخری رسومات انجام دینے میں بھی اکثریتی طبقے پنڈت کنبے کے ساتھ ساتھ پیش رہے ہیں ۔ جنوبی ضلع پلوامہ کے قصبہ ترال پائین علاقے میں پنڈت محلہ جو نس اسٹینڈ سے چند گز کی دوری پر واقع پنڈت محلہ ترال پائین میں ایک معمر کشمیری پنڈت خاتون شیشی رینہ زوجہ ناتھ جی رینہ سوموار کو رات دیر گئے انتقال کر گئی ہے ۔اس دوران خاتون کے موت کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد متاثرہ کنبے کے گئے پہنچے اور متاثرہ کنبے کی ڈھارس باندھی،منگل کے روز آخری رسومات انجام دینے میںبھی مقامی مسلمان پیش پیش رہے۔آخری رسومات میں مقامی مسلمانوں نے شرکت کی ہے جبکہ پنڈت کنبے میں مسلم خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جہاں انہوں نے نم آنکھون سے آنجہانی پنڈت خاتون کو رخصت کیا۔ضلع پلوامہ کے ترال میں ناتھ جی رینہ کا یہ خاندان اْن سینکڑوں کشمیری پنڈت خاندانوں میں ایک ہے جو گذشتہ تین دہائیوں کے نامساعد حالات کے دوران بھی کشمیر میں ہی مقیم رہے اور اپنے ہمسایہ مسلم برادری کے دْکھ سْکھ میں شامل حال رہے۔مقامی مسلمانوں نے منگل کے روز نہ صرف اپنے پنڈت بھائیوں کے شانہ بشانہ آنجہانی کی آخری رسومات سر انجام دیں بلکہ اْن کی ارتھی کو اپنے کندھوں پر اْٹھانے کے علاوہ چتا کو آگ لگانے کے لئے درکار لکڑی او ردوسری چیزیں مہیاں کیں۔آنجہانی کے ایک رشتہ دار کاکا جی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں نے مل کر شیشی رینہ نامی خاتون کی آخری رسومات انجام دی ہیں‘۔اْن کا کہنا تھا: ’ہم سب نے مل کر ان کی آخری رسومات ادا کردی ہیں، یہاں کی مقامی مسلم برادری نے آخری رسومات کے لئے درکار ہر چیز فراہم کی‘۔کنبے نے انتظامیہ کی جانب سے ان کے شمشان گھاٹ کو تاحال تعمیر نہ کرنے پر شدید ناراض گی کا اظہار کیا ہے ۔