سرینگر// جنوبی کشمیرکے سب ضلع ترال کے لرگام علاقے میں نا معلوم بندوق برداروں نے محکمہ تعلیم میں کام کر رہے ایک 35سالہ نوجوان کو گھر کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے ۔ واقعے کے فوراً بعد فورسزنے علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش تیز کر دی ہے، تاہم اس حوالے سے فوری طور پر کوئی سراغ نہیں ملا ہے پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کیا ہے ۔نمائندے کے مطابق قصبہ کے ایک مضافاتی گائوں میں مشتبہ اسلحہ برداروں نے محکمہ تعلیم میں کام کررہے ایک ملازم کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ لرگام ترال نامی گائوں میںتیسری عید (جمعہ کی شام )کی خوشیاں اس وقت ماتم میں تبدیل ہوئیں جب رات کے قریب ساڑھے 9بجے گھر سے باہر نا معلوم اسلحہ برداروں نے پیشے سے سرکاری ملازم 35سالہ جاوید احمد ملک ولد غلام محمد ملک کو نزدیک سے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا۔ اگرچہ مقامی لوگوں کی مدد سے اسے سب ضلع اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ تب تک زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ چکا تھا۔اسپتال ذرائع نے بتایا کہ اسکی چھاتی میں تین گولیاں پیوست ہوئی تھیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کہلیل میںبطور چپراسی کام کررہا تھا۔اس ہلاکت کے بعد پورا گائوں ماتم کدے میں تبدیل ہوگیا ہے۔خیال رہے ترال اوراونتی پورہ کے ہاری پاری گام علاقوں میں قریب گزشتہ50روز کے دوران بندوق برداوں کے ہاتھوں میونسپل کمیٹی ترال کے چیر مین سمیت5عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں جس میں ہاری پاریگام کے ایک ہی کنبہ کے تین افراد بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے پولیس اور فورسزنے واقعے کے حوالے سے اطلاع موصول ہونے کے بعد بستی کو محاصرے میںلیا اور حملہ آوروں کی تلاش تیز کر دی ہے جس دوران فوری طور پر کوئی سراغ نہیں ملا ہے پولیس نے اس حوالے سے ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے ۔










